اتنی عجلت کیوں ؟

تحریر:     زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ:    سیما لیاقت

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ہر کام میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔جب ہم کچھ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تواس کی حکمتِ عملی پر غوربھی نہیں کرتے  اور چاہتے ہیں کہ وہ کام فوراً ہوجائے۔جلد بازی کا یہ رحجان  بچوں کی تعلیم کے معاملے میں بچوں کے ساتھ ساتھ معاشرے پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ بہر حال ہر کام کرنے کا ایک دورانیہ مقرر ہوتا ہے۔ آپ اپنی مرضی سے  اسے گَھٹانہیں کرسکتے۔ مجھے یاد ہے معروف سائنس  دان  ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی ہمیں بتایا کرتے تھے کہ انہیں اپنے تجربات کے دوران  ٹیسٹ ٹیوب میں مختلف عناصر کو ملانے کے بعد کئی دن انتظار کرنا ہوتا تھا تاکہ فطرت اپنا کام مکمل کرلے۔

بدقسمتی سےہمارے ماہرینِ تعلیم یہ سمجھتے ہیں کہ  وہ فطرت کے اس بنیادی قانون کی تعمیل سے  بَری ہیں۔ ماہرینِ تعلیم ، تعلیم کی منصوبہ بندی کرتے وقت بچوں کی نفسیاتی، ذہنی اور جسمانی نشوونما کو صریح طور پر نظر انداز کردیتے ہیں۔ اکثربچوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی قدرتی صلاحیت سے بڑھ کر کارنامے انجام دیں  حالانکہ ان کاذہن اور جسم ابھی نشونماکے عمل میں ہے۔ بچوں  کے ساتھ وقت سے پہلے زبردستی کوئی بھی کام کرایا جائے  وہ انہیں نقصان پہنچاتا ہے۔

ہمارے تعلیمی نظام کے طریقے خاصےمضحکہ خیز  ہیں جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے بچوں کو 12 سال کے عرصہ میں اپنی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟اس  بات سے یہی اخذ کیا گیا ہے  کہ بچے کے میٹرک کے امتحان میں بیٹھتے ہی( جبکہ اس کی عمر  15/16   سال  ہوتی ہے )اسے کالج یانوکری کے لیےتیار سمجھاجاتا ہے۔اگر چہ نادرا 18 سال کی عمر میں فرد کو بالغ قراردیتاہے کہ اب وہ اپنا قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے ۔ مغرب میں بچے 14 سال اسکول میں گزارتے ہیں اور ان کی اسکول کی تعلیم 18سال کی عمر میں مکمل ہوتی ہے۔

اس سے بھی بدتریہ ہے کہ چھوٹے بچوں کو اسکول جانے کے پہلے دن سے ہی اِن پر پڑھائی کا بوجھ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اورنہیں  بہت ساراہوم ورک دیا جاتا ہے ۔ اسکول کے اوقات کے بعدوہ پرائیوٹ ٹیوشن پڑھنے جاتے ہیں۔ ان کا روزمرہ کا کام اتنازیادہ ہوتا ہے کہ  چھوٹے بچوں کواپنی پڑھائی کے لیے گھنٹوں کام کرنا پڑتا ہے۔ ان کی پڑھائی کے بوجھ کی شدت کا ثبوت وہ بھاری بستے ہیں جو اسکول جانے والے بچوں کی کمر پر لٹکے ہوتے ہیں ۔

پڑھائی کی زیادتی کے سبب انہیں کھیلنے کاوقت نہیں ملتا۔ زیادہ تر اسکول کھیل کوداور جسمانی ورزش کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ان کےنزدیک یہ محض  ‘عیش و عشرت’  ہیں  جن کے بغیر بھی کام ہوسکتا ہے۔ بہت سے اسکولوں میں کھیل کے میدان تک نہیں ہیں ۔حالانکہ عام طور پر اس حقیقت کو سمجھا جاچکا ہے کہ کھیل کو دبچوں کی تعلیم کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بچے وہ سیکھ رہےہیں جسے  ہمارے رائج نظام میں  مفید سمجھا جاتا ہے۔اسی وجہ سے اساتذہ کو باقاعدگی سے ٹیسٹ اور امتحانات منعقد کر کے اپنے شاگردوں کو جانچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ امتحانات اتنے متواتر اور دشوار ہوتے ہیں کہ پڑھائی  بچوں کے لیے ایک ہیبت ناک  خواب بن جاتی ہے۔ ان سب کی اصل میں ضرورت نہیں ہے۔ ایک اچھا تعلیمی نظام  ایسے طریقے وضع کرتا ہے جس سے نوجوان طلباء کی ترقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

ابتدائی تعلیم کا مقصد بچے کی نشوونما کرنا،معاشرہ میں  راہ و رسم رکھنا اور خود اعتمادی پیدا کرنا ہے۔ ایک طرح سے یہ آئندہ تعلیم کی  تیاری کا مرحلہ ہے۔ پڑھائی طلبہ کی ذہنی عمر کے تناسب سے ہونی چاہیے۔ اساتذہ کوچاہیے کہ وہ اسکول کو ایک دوستانہ اور خوشگوار جگہ کے طور پر بچے سے متعارف کرائیں۔ پڑھائی دلچسپ  اور بچے کی فہم سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔ ہدف یہ ہےکہ طلباء کوایسے کام کے لیے تیار کیا جائے جس میں محنت کی ضرورت ہوتی ہے  اورجو اگلی جماعتوں میں انہیں درپیش ہوگا۔مقصد تو یہی ہے  کہ کھیل اور کھلونوں کے ذریعے  بچے کی عمر کے مطابق اس کی صلاحیتوں کےاظہار میں مدد کی جائے  جبکہ سمجھنے کے ساتھ  ساتھ بولنے، پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں پر توجہ دی جائے۔

اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ  بچوں کی تعلیم اِن کی مادری زبان میں شروع کی جائے۔جو اُن کے لیے  خیالات کے اظہار کا واحد ذریعہ ہے۔چونکہ مادری زبان ہی اُن کے تخلیقی کام اوراُن کی سوچ کو واضح کرسکتی ہے۔ کتابوں سے علم حاصل کرنے کا مرحلہ  بعد میں اگلی جماعتوں میں آنا چاہیے۔ بچے کو دوسری  زبان اُس وقت سکھائی جائے جبکہ وہ اپنی زبان میں مہارت حاصل کرچکا ہو۔اپنی زبان میں روانی حاصل کرنے کے بعد دوسری زبان سکھائی جانی چاہیے۔ وقت کا تعین کرنے کے لیے کہ اسے دیگر زبان کب اور کیسے متعارف کرائی جائے  یہ ضروری ہے کہ اس کے لیے بچوں کے  تجربات کو سمجھا جائے۔     ایک اعتدال پسند سوچ ہمیشہ معان رہتی ہے۔ جب بچوں کوان کی سمجھ یا صلاحیت سے زیادہ مشکل کام دیئے جاتے ہیں تو وہ  پڑھائی میں اپنی دلچسپی  کھو دیتے ہیں۔

پاکستان کا اسکول کا نظام ان ہدایات پر عمل نہیں کرتا جس کی وجہ سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ ایک طرف مل جل کر کام نہ کرنے کا رحجان ،غیر ضروری مقابلہ سازی بہت سے بچوں پر ذہنی دباؤ ڈالتی ہے۔ دوسری طرف وہ نوجوان ہیں جن کے ساتھ زبردستی کی گئی اور اب وہ کتابوں اور مطالعہ سے بے رغبتی کا شکار ہیں ۔اس  چیز نے رٹا کلچر کو عام کیا ہے۔

اساتذہ اب پرانے زمانے کے سپر ہیرو نہیں رہے کیونکہ پڑھانا اب ان کا جنون نہیں بلکہ صرف  ذریعہ معاش ہے۔ اگر ماہرِ تعلیم بچوں میں نظم وضبط   نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو اس کی وجہ انہیں اساتذہ میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ  طلباء اپنی پڑھائی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اورعام طور پر وہ دوسرے بچوں  کےلیے کوئی مسئلہ بھی پیدا نہیں کرتے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی کے ذمہ دار وہ اساتذہ ہیں  جو کارکردگی نہیں دکھا رہے۔ اساتذہ کی غیر حاضری اور بہ حیثیت ممتحن ان کی بدعنوانیاں ہی ان اساتذہ کو قصوروار ٹھہراتی ہیں۔کیا اساتذہ کی یہ کمزوریاں بچے میں شدید جذباتی عدم تحفظ کو جنم نہیں دیتیں؟ کل کے بچے آج کے بالغ ہیں ۔ بچوں میں تحفظ کااحساس نہ ہونا،اِن میں  سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی اور معاشی بے یقینی کی شکل میں ظاہر ہوتاہے جو آج ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

ماخذ: روزنامہ ڈان ۔    25 اگست 2023