تحریر: زبیدہ مصطفیٰ
اردو ترجمہ : سیما لیاقت
ہمارے اسکول کے بچوں کی صحت خطرے میں ہے۔ نظام ِتعلیم یہ نہیں جو بچوں کو سماجی برائیوں جیسے کہ منشیات (Substance Use Disorder،ڈاکٹر جسے SUD کہتے ہیں) کی لت میں مبتلا کرتاہے۔اسکول بھی طلبا ءکو اخلاقی مدد فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں جس کی انہیں نوعمری میں ضرورت ہوتی ہے۔ جب غیر قانونی منشیات کاذکر آتا ہے تووہ عام طور پراس تناظر میں ہوتا ہے کہ حکومت کے متعلقہ اداروں نے چھاپہ مار کرمنشیات برآمد کرلی۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار اس مسئلہ کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں کہ اس خطرہ کی شدت کتنی ہے۔ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 76 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ہے۔ 2013 میں جب اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات اورجرائم(UNODC) کا پہلا سروے ہوا تھا تو منشیات کے عادی افراد کی تعداد 45لاکھ بتائی گئی ۔ آج کل ایک اور سروے جاری ہے۔یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں نشہ آور افراد کی کل تعداد میں تقریباًنصف کی عمر 30 سال سے کم ہے۔
جو چیزحقیقت کو الجھاتی ہے وہ غیر قانونی نشہ آور اشیاء کی تعریف کی وضاحت کا نہ ہونا ہے۔ اس طرح کچھ محرکات (کیفین اور تمباکو) ڈپریشن اور کچھ مصنوعی ادویات کو غیر قانونی نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن اگر بچوں کی بات کی جائے تو یہ ادویات ان کی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہو تی ہیں جوبعد میں انھیں شدید نشہ آور ادویات کی طرف مائل کر سکتی ہیں۔
اس سلسلہ میں عالمی ادارہ برائے صحت (WHO)کی وضاحت زیادہ معاون نہیں رہی ہے۔ اس کے مطابق “نفسیاتی دوائیں وہ مادے ہیں جو کسی کےجسمانی نظام میں داخل ہونے کے بعد ذہنی عمل مثلاً احساس ،شعور ،ادراک یامزاج کو متاثر کرتے ہیں۔” لیکن عالمی ادارہ برائے صحت یہ نہیں بتاتا کہ کون سے مادے ایسے ہیں جو آپ کو اپنا عادی بنالیتے ہیں۔
ان معنوں کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی اشیاء کو سماجی طور پر قبول کرلیا گیا ہے جنہیں طبی طور پر نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً گٹکا اور ای سگریٹ عام ہیں ۔گٹکا غریب اور ای سگریٹ امیرطبقہ استعمال کرتاہے۔ گٹکا پر قانون کے مطابق پابندی ہے جبکہ تمباکو کی صنعت کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔
واضح وجوہات کی بنا پر حکام بین الاقوامی جرائم کی انجمنوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں جو انسانوں کو اغوا کرنے والے گروہ اور منشیات کے سمگلروں کے ساتھ گٹھ جوڑ بناتے ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان ان بچوں کے لیے ایک غیرمحفوظ ملک بن گیا ہے جوسکون کی تلاش میں ہیں ۔
دماغی صحت کے ماہرینSUD کی وجہ بچے میں غیرسازگار حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا نہ ہونا قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر نازیلہ بانو(ماہر ِنفسیات اور منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے پیشہ ور معالج کی UNODC ٹرینر )کا خیال ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی معاشی صورتحال اسکول کے بچوں کو پریشان نہیں کرتی ہے۔ ان کے نزدیک نوعمروں کے مسائل دوسرے ہیں جیسے طرز ِزندگی، لباس کی وضع قطع اور ہم عصروں کے ساتھ تفریحی وقت میں مصروف رہنا ہے۔ ان بچوں کی یہ مجبوری ایک گروہ سے جڑی ہوتی ہے۔ چونکہ منشیات ‘فیشن’ بن گئی ہے اسی لیے یہ بچے اپنے نشہ کرنے والے ہم جماعتوں کوہیرو گردانتے ہیں اور ان کے اس عمل کو قابلِ تقلید سمجھتے ہیں ۔
ڈاکٹرنازیلہ کے مطابق نفسیاتی وحیاتیاتی اثرات بچے کی حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا بنیادی محرک ہوتے ہیں۔ ہماری سماجی روایات اور بچوں سے متعلق والدین کے رویے نوجوانوں کے نقصان کا سبب ہیں ۔نوجوان جذباتی طور پر اپنے خاندانوں سے کَٹتے جارہے ہیں۔
ثناء خان کا یہ کہنا بہت اہم ہے کہ تعلیم نوجوانوں کی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹرثناء ایک پلے تھراپسٹ اور ٹرینی سائیکو تھراپسٹ ہیں ۔جو 18 سالہ تدریسی تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: “ہماری تعلیم میں مقابلہ سازی عام ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ سے بچے بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔ بچوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی پڑھائی میں بازی لے جائیں گے ۔والدین Aگریڈ سے کم پر مطمئن نہیں ہوتے۔ یہ رویہ بچے کے سوچنے کے انداز کو بھی تشکیل دیتا ہے۔”
وہ ہمارے اسکول کے نظام کی مختلف دیگر خصوصیات کے بارے میں بتاتی ہیں جو بچے کو منفی طور پر متاثر کرتی ہے جس میں اسکول کے اوقات کے بعد نجی ٹیوشن( چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو)،غیر ملکی زبان میں تعلیم حاصل کرنا جو بہت سے طلباء کے لیے ایک چیلنج ہے۔بچوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی کھیل یا جسمانی ورزش نہیں ہے۔بنیادی مسئلہ والدین کی یہ خواہش ہے کہ ان کا بچہ کلاس میں اعلیٰ کارکردگی دکھائےاور جب تک وہ اپنی کلاس میں سب سے اوپر نہ ہووہ اپنے اپنے بچے کی قابلیت کو قبول نہیں کرتے۔ “میں ہمیشہ والدین کو مشورہ دیتی ہوں کہ وہ اپنے بچے کی قدرتی صلاحیتوں کا اقرار کریں کہ اور سمجھیں ۔اس کے ساتھ جذباتی تعلقات استوار کریں تاکہ بچہ اپنے آ پ کو محفوظ تصور کر سکے۔” وہ مزید کہتی ہیں۔
یہ دونوں محترمہ بچوں کی زندگی میں اسمارٹ فون (جسے تقریباً تمام بچے ڈیجیٹل گیمز کھیلنے یا سوشل میڈیا پر بات چیت کرنے کے لیے عام استعمال کرتے ہیں) اور بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے بے تحاشا استعمال پر تنقید کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر نازیلہ بتاتی ہیں کہ فیس بک پر تبصرہ کرنا یک طرفہ سرگرمی ہےکیونکہ نوجوانوں کے درمیان کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوتی حالانکہ ہزاروں لوگ اس عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کی دنیا حقیقت میں تنہا ہے۔
ثنا ء ڈیجیٹل گیمز کے خطرات کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس میں توجہ کا مختصر دورانیہ ،فوری نتیجہ اور زیادہ اطمینان حاصل کرنے کی مسلسل ضرورت ہے۔ منشیات بھی اسی طرح اپنا اثر دکھاتی ہے۔ منشیات کے عادی افراد کی خود کو مطمئن کرنے کی ضرورت بتدریج بڑھتی رہتی ہے۔
یونیسکو کی حالیہ GEMرپورٹ میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی صرف ضرورت کے مطابق استعمال ہو۔ اور اس رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ ٹیکنالوجی کو استاد کی موجودگی کا نعم البدل نہ سمجھاجائے۔
اس صورت حال میں یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ تمام سماجی و معاشی طبقوں کے نوجوان بڑی تعداد میں منشیات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسکول کم از کم عوامی سطح پربیداری پیدا کرکے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرسکتے ہیں کہ ان کے احاطے میں منشیات کا استعمال نہ ہو۔ اگر تعلیم کو خوشگوار بنایا جائے تو بچے کو دباؤ کیوں محسوس ہو؟ والدین کو بچوں کے حق میں اپنے فرائض سنجیدگی سے اداکرناچاہیے۔ کہاں ہیں وہ اساتذہ جو ماضی میں بچوں کےسپر ہیرو ہوا کرتے تھے؟
ماخذ: روزنامہ ڈان
11 اگست 2023کو شائع ہوا۔