خاموشی کیوں؟

تحریر: زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ : سیما لیاقت

حال ہی میں  SZABIST یونیورسٹی میں  تعلیمی آزادی سے متعلق ایک تاریخی کانفرنس  منعقد ہوئی۔جس کاایک سیشن ہمارے تعلیمی اداروں میں رائج خاموشی کے کلچر کا تجزیہ کرنے کے لیے مختص کیا گیا ۔اس سوچ کے پیچھے وہ طاقت تھی جو   علماء کی آزادانہ اظہار رائے کو روکنا چاہتے ہیں اور ہماری تاریخ کی ناخوشگوارسچائیوں کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ سنسر شپ کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

ایک مقرر کی طرف سے اس بات کی طرف نشاندہی کی گئی کہ ہمارا معاشرہ  روایتی طور پر بچوں کو خاموش کر دیتا ہے۔ ان کے سوال پوچھنے پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور انہیں اپنے بزرگوں کے سامنے بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک اور پینلسٹ نے اساتذہ کوموردِ الزام ٹہرایا کہ وہ کلاس روم میں پڑھائی جانے والی چیزوں میں طلباءکی  دلچسپی پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نتیجتاً طلبہ میں علم حاصل کرنے کی خواہش نہ رہی۔

بدقسمتی سے تعلیمی نظام میں حکومت کی  نافذ کردہ زبان کی پالیسی سے جو خاموشی کا کلچر پیداہوا ہے اس پر کسی نے بات نہیں کی۔ اساتذہ کی انگریزی زبان  میں مہارت نہ ہونے کے باوجود انگریزی زبان کے استعمال پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ تمام اسکولوں میں  انگریزی کو لازمی قرار دینے اور پرائیویٹ اسکولوں میں انگریزی  ذریعہ تعلیم کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے نے ایک اختلاف پیدا کر دیا ہے۔ کراچی ضلع جنوبی کےتمام سرکاری اسکولوں میں انگریزی کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اپنانے کے لیے سندھ حکومت کا حالیہ اقدام (جس کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا گیا )بدترین ہے۔

یہ غیر دانشمندانہ پالیسیاں پاکستان میں تعلیم کو تباہ کر رہی ہیں اور ہمارے پہلے سے قائم طبقاتی معاشرے میں دراڑیں ڈال رہی  ہیں۔ ٹوٹے پھوٹے تعلیمی نظام کی وجہ سے عدم مساوات اور ناانصافی بڑھ رہی ہے۔ یہ سب کچھ سماجی رویوں کی تشکیل کر رہا ہے۔ انگریزی ‘اچھی’ ہے۔ اردو (یا دوسری مقامی زبان) ‘خراب’ ہے۔

جو لوگ ‘انگلش میڈیم اسکولوں’ میں پڑھتے ہیں وہ قابل ہیں اوراچھی  نوکریاں  بھی حاصل کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو کسی ایسے اسکول میں جاتے ہیں جو انگریزی زبان  کو ذریعہ تعلیم بنانے پر زور نہیں دیتے ۔وہ پس ماندہ ہیں اور ذہین نہیں ہیں ۔ کیا یہ حیرت کی بات ہے کہ اب سبھی اپنی بقا اور خود کو تباہ کرنے کے لیے انگریزی  زبان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں؟

یہ بات خاموشی کا کلچر کیسے پیدا کرتی ہے؟ یہ نوجوانوں سے ان کا اعتماد تک چھین لیتی ہے۔ مجھے اس بات کا تجربہ پندرہ دن پہلے اس وقت ہوا جب اربن ریسورس سینٹر نے کمیونٹی آرکیٹیکٹ ٹریننگ کورس  کے 18ویں بیج کی تکمیل پر مجھے کامیاب طلباء میں سر ٹیفیکٹ تقسیم کرنے کے لیے مدعو کیا۔ یہ ایک قابل قدر خدمت ہے جو یو آر سی نوجوان طلباؤ طالبات کو نقشے بنانے ،وینٹیلیشن اور سینی ٹیشن کو بہتر بنانے کے  مقصد سے تربیت دے کر مختلف علاقوں میں اپنے مطالعاتی  دوروں کا اہتمام کرتی ہے جہاں وہ مختلف کمیونٹی میں کم آمدنی والے طبقے سے بات کرتے ہیں  ۔ یعنی پاکستان کی حقیقی شکل دیکھتے ہیں ۔ اب تک تقریباً 292 نوجوانوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔

مجھے تعلیم میں دوہرے معیار پر لیکچر دینے کو کہا گیا۔ اس کے بجائے، میں نے شرکاء کو اپنے  اپنے اسکول کے تجربات دہرانے کے لیے کہا۔ان میں سے ہر ایک نے  اپنے اسکول کی تعلیم کا ایک جیسا احوال پیش کیا۔ان سب  نے ایک ایسے اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی جو ‘انگلش میڈیم’ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اساتذہ  خود طلباء سے اردو  زبان میں بات کرتے تھے لیکن طلباء کو  مجبوراً            انگریزی  زبان میں  ہی درسی کتابیں پڑھنا، لکھنا اور سیکھنا پڑتا تھا۔ طلباء یہاں تک اپنا تعارف کروانے کے بعد خاموش ہو گئے۔ وہ ذہین معلوم ہوتے تھے لیکن کسی نے بھی اس دہرے  طرزِ تدریس پر سوال نہیں اٹھایا جسے پاکستان میں تعلیم سے متعلق سبھی قبول کرلیتے ہیں۔

یہ عجیب و غریب تدریسی طریقے المناک نتائج پیداکرتے ہیں۔  بچے انگریزی نہیں سیکھتے۔ نہ ہی وہ مضامین سیکھ پاتے  ہیں جو انہیں  انگریزی زبان میں پڑھائے جاتے ہوں۔ پھر بھی  اس احمقانہ بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ  اس طرح تعلیم کادوہرا مقصد پورا ہوتا ہے۔ یہ مضحکہ خیز تدریس نوآبادیاتی تحفہ ہیں ۔جس کے  پانچ نتائج ہیں۔ 1) یہ طالب علم کو  کسی بھی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا نہیں سکھاتا۔ 2) بچہ رٹہ ازم کا سہارالیتا ہے۔ 3) بچے پر کوئی بھی تصور واضح نہیں ہے۔  4) اس طریقے سے  بچے اپنی زبان بھول جاتے ہیں اور 5) ان میں اعتماد کے ساتھ بات کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی۔

جب وہ اشرافیہ کے اسکولوں کے بچوں کو “فر فر انگلش” بولتے دیکھتے ہیں تو اپنے اندر خود اعتمادی کو ٹوٹتے ہوئے محسوس کرتے ہیں  ( لیاری سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کا خواب،جو خود انگریزی زبان سے نمٹنے کی کوشش کررہاہے)۔

تقسیم اسناد کی تقریب کے کچھ دنوں بعدمیں نے ان سرٹیفکیٹ ہولڈرز میں سے کچھ  طلباء کوٹیلی فون کیا تاکہ  جان سکوں کہ جب میں ان سے بات کرنا چاہ رہی تھی اس وقت انہوں نے خاموشی کیوں اختیار کی ۔ میری بات سننے کے بعد انہوں نے اپنی بات کا اظہار کیا ۔ ایک نے  جواب دیا کہ ہم طلباء میں خاموشی کوئی انوکھی بات نہیں یہ معمول کا حصہ ہے۔دوسرے طلباء نے بتایا کہ ایک بار زبان ہی کے معاملہ پر  اس کے استاد نے کھلے عام اس کی تذلیل کی تھی  (یو آر سی میں نہیں) جس کے بعد اس نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔

خاموشی کا کلچر بچوں میں اتنا گہرا ہے کہ یو آر سی کے پرسکون ماحول میں بھی جہاں زبان کے اختیار پر کوئی پابندی نہیں ہے، طالب علم ان حدوں کو پھلانگنے  میں ناکام رہتے ہیں جوان کے بچپن میں حائل کردی گئی تھی ۔یہ  حدیں ان کی نفسیات کو متاثر کرتی ہیں اور ساتھ ہی ان کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ کیا اچھی تعلیم ایسی ہی ہونی  چاہیے؟