انگریزی آرٹیکل: زبیدہ مصطفیٰ
اردو ترجمہ : سیما لیاقت
ایک زمانہ وہ تھا جب امیدوار جوڑوں کی شادیاں اُن کے اہلِ خانہ طے کرتے تھے جس میں “چائے کی ٹرالی” (ریحانہ عالم کی کتاب کے عنوان سے مستعار) کا کردار بہت اہم ہوتا تھا۔ جو لوگ شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہوتےتھے ۔ان کاایک دوسرے کے لیے اجنبی ہونا ایک عام بات تھی۔ان کی شادی پر ان کی رائے ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔درحقیقت یہ ثقافتی رواج اب بھی بہت سے گھرانوں میں برقرار ہے۔
ا س کے نتیجہ میں آج ہمیں ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا ہے۔میڈیکل کالجوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے۔کہا جاتا ہے 70 فیصد لڑکیاں ہیں لیکن گریجویشن کے بعدلڑکیوں کی آدھی تعداد طب کےپیشے میں داخل نہیں ہوتی اور وہ گھریلو خاتون کےایک روایتی کردار کا انتخا ب کرتی ہیں جو پدرسری معاشرہ نے نافذکیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں بھی جاری ہے جب ملک میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے۔
ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ اخلاقی شش وپنج کا نتیجہ ہے۔کیونکہ عام خیال ہے کہ وہ خواتین جو میڈیکل گریجویٹس ہونے کے باوجود ملازمت نہیں کرتیں وہ نوکری میں دلچسپی نہیں رکھتی ہیں وہ رشتوں کے بازار میں صرف اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے میڈیکل کالج میں داخل ہوتی ہیں۔ اس پر عوام کے ایک حلقے کی جانب سے انہیں ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ عام رائے یہ ہے کہ انہیں سرکاری میڈکل کالج سے جو بھی رعایت ملتی ہے اسے ایک فائدہ کی صورت معاشرہ کو واپس لوٹاناچاہیے۔
میں نے اس سلسلہ میں ڈاکٹر فرحت معظم سے ملنے کا ارادہ کیا جو Center for Biomedical Ethics and Culture , SIUT کی بانی اور چیئرپرسن ہیں ۔یہ سینٹر 2004 میں قائم کیا گیاجو اب عالمی ادارہ برائے صحت (WHO)کا نامزد کردہ بائیو ایتھکس سنٹر ہے۔ ڈاکٹر معظم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں سال 2022میں Hastings Center Bioethics Founder’s Award سے نوازاگیا۔ CBEC سینکڑوں شرکاء کے لیے ماسٹرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ پروگرام اور سرٹیفکیٹ کورس کا انعقاد کرتا رہاہے۔ پاکستانی میڈیکل طلباء پر ان کی معیاری تحقیق (شریک مصنفہ سلیمہ شیخانی ) میڈیکل ایجوکیشن (لندن) نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
ڈاکٹر معظم نے اس بات کاآغاز کیا کہ ان تمام معاملات میں طالبات کو الزام دینا انتہائی غیر منصفانہ ہے کیونکہ ہمارا پدرسری معاشرہ اس صورتِ حال کی اصل وجہ ہے۔ نوجوان خواتین ڈاکٹروں کو کسی قسم کا تعاون حاصل نہیں۔ ہمارا طبی تربیت کا نظام ناکافی، غیر معیاری ہے ا س کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ افراد کو معاوضہ بھی کم دیتا ہے۔
ہماری سماجی اقدار میں شادی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔اس بات کا اقرار ان لڑکیوں نے بھی کیا جو ڈاکٹر معظم کے نافذ کردہ گروہی مباحثوں اور انٹرویو میں شریک تھیں حالانکہ اس سے ان کی اپنی زندگی پر ہی اختیار بہت کم رہ گیا تھا۔کیونکہ شادی کے بعد انہیں گرہستی بنانےاور ماں کا روایتی کردار قبول کرنا پڑتا ہے۔
خاندان اور معاشرے کی حمایت کی عدم موجودگی میں بہت ہی کم ادارے ایسے ہیں جوملازمت پیشہ ماؤں اور ان کے چھوٹے بچوں کے لیے ڈے کیئر سینٹرز کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔ لہٰذاخواتین میڈیکل گریجویٹس پیشہ ورانہ زندگی کی طرف نہیں آتیں۔ کیونکہ ہسپتال کی ملازمت مشکل اور وقت طلب ہے۔ کوئی بھی لڑکی میڈیکل کی ملازمت، اپنا گھر اور بچہ اکیلے نہیں سنبھال سکتی۔ ڈاکٹر معظم نے تدریسی ہسپتالوں کی ناکافی تعداد اور ناقص تربیتی سہولیات کی طرف بھی اشارہ کیا۔
CPSPصرف خصوصی امتحانات کا انعقاد کرتا ہے۔ جہاں تک وظیفے کا تعلق ہےوہ خاندان کی کفالت کے لیےہرگزکافی نہیں ہیں۔ اگر ایم بی بی ایس پاس کرنے والے تمام طلباء طب کے پیشہ کو اپنانے کافیصلہ کر لیں توان کی ایک بڑی تعداد واپس لوٹادی جائے گی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے میڈیکل گریجویٹ مرد بھی کم معاوضہ کی وجہ سے اسے چھوڑ رہے ہیں۔ CBEC کی تحقیق کا ایک اور اہم نتیجہ یہ ہے کہ میڈیکل کالجوں میں مرد درخواست گزاروں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ مردوں کو ابتدائی سالوں میں طبی پیشہ مالی طور پر تسلی بخش نہیں لگتا۔
پھر اس چیلنج کا حل کیا ہے؟ ڈاکٹر معظم نے طبی تربیت کے نظام میں تبدیلیوں کا مشورہ دیا۔ تدریسی ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی نوجوان ڈاکٹر تربیت سے محروم نہ رہے جو CPSPامتحانات کی شرط ہے۔ تربیت کے معیار کو بہتر کیا جائے اور مراعات میں اضافہ ہوتاکہ نوجوان ڈاکٹروں کو معقول اجرت مل سکے۔ ہر وہ ادارہ جہاں خواتین کام کرتی ہیں اس کے احاطے میں بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام ہونا ضروری ہے۔
ایک قابلِ عمل تجویز یہ ہے کہ بہت سی اسامیاں مشترکہ ہوں جو دوخواتین مل کر کریں۔ جس کا مطلب ہے کہ ایک ملازمت میں دو خواتین کو جز وقتی بنیادوں پر اس عہدے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اس سے خواتین کو روزانہ کام کرنے کے لیے درکار گھنٹوں کی تعداد کم ہو جائے گی البتہ ان کی ڈگری کے حصول کی مدت بڑھ جائے گی۔ یہ سب ممکن ہے اگر حکام ڈاکٹروں کی کمی کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ ہوں۔ ڈاکٹر معظم اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان مسائل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اسے یقینی بنایا جا سکے ساتھ ہی متعارف کرائی گئیں تبدیلیاں بامعنی اور قابل عمل ہیں۔
ان اصلاحات کے تحت عام ذہنیت میں تبدیلی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ہی جو نوجوان ڈاکٹر کام کرنا چاہتا ہے خاندان اس کی سہولت کے لیے قدم بڑھائے گا ۔ یہ کام کرنے والی ماں اور اس کے بچے کی زندگی کو مستقل اوریقینی بنائے گا۔
28 جولائی 2023
ماخذ: ڈان اخبار