غیر محفوظ کیوں ؟

تحریر: زبیدہ مصطفیٰ
اردو ترجمہ : سیما لیاقت

مختار حسین اپنی آپ بیتی “Foundation and Forms” میں اپنے پہلے اسکول کے تجربے کے بارے میں لکھتے ہیں “1955میں میرا داخلہ ایک نجی اسکول میں کروایا گیا جسے ایک برطانوی خاتون مسز کارکس چلاتی تھیں۔ کارکس پتھر کے بنے ہوئے گھر میں رہتی تھیں جس کی چھت سرخ اینٹوں کی تھی ۔یہ ہماری کالونی کے اندر ہی ایک چھوٹے سے حصے پر مشتمل تھا جس کے اطراف ایک چاردیواری تھی جو زیادہ اونچی نہ تھی۔اس وقت میں صرف پانچ سال کا تھا اور ہرروز صبح اسکول جانا مجھے سخت ناگوار گزرتا۔ میں اسکول میں بھی روتا رہتا تھا۔کبھی کبھی تو یہ رونا اتنا زیادہ ہوجاتا کہ مجھے اسکول وقفہ کے دوران گھر بھیج دیا جاتا ۔مجھے گھر چھوڑنےکی ذمہ داری اکثر شوکت عزیز کو دی جاتی ۔ غالباًشوکت عزیزمجھ سے عمر میں ایک سال ہی بڑے رہے ہونگے۔وہ بعدمیں پاکستان کے وزیرِ اعظم بھی بنے۔ہوتے ہوتے میں اسکول جانے کا عادی بھی ہوگیا اور پڑھائی بھی اچھے سے کرنے لگا۔”


مجھے کھوج تھی کہ اسکول میں آخر کس بات نے مختار کوپریشان کیا۔مختار نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے خود نہیں معلوم ۔البتہ میرا خیال ہے کہ یہ اسکول میں رائج زبان کی ‘اجنبیت ‘ ہی تھی جس نے مختار کو کُھل کر اظہارِ خیال کا موقع نہیں دیا۔ یہ زبان مختار کےلیے بات چیت میں ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ ذہین ہونے کے ناطے انہوں نے اپنے آپ کو بے بس محسوس کیا ہوگا ۔ان کے گھر میں اردو بولی جاتی تھی مگر اسکول کا ذریعہ تعلیم مکمل انگریزی تھا۔ بچہ جب اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے تو روتا ہے ۔اپنے گھر کے گوشہ ءِ عافیت سے دور رہنا جہاں اس کی ماں کی موجودگی اطمینان کا باعث ہو۔یہ بات ایک چھوٹے بچے کے لیے کافی پریشان کن ہوسکتی ہے ۔اس مشکل میں زبان کی رکاوٹ کا بھی اضافہ کردیں جو بچہ کو دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنے سے روکے رکھتی ہے تو یہ صورت حال مزید دشواری کا باعث بن جاتی ہے ۔
بہرحال یہ مختار کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں سمجھنے والی ایک معقول استاد وہاں موجودتھیں جو مختار کی اس مشکل کو بھانپتے ہوئے انہیں گھر بھیج دیا کرتیں ۔رفتہ رفتہ انہوں نے اس مشکل کوحل کرلیا۔انگریزی زبان بھی سیکھ لی۔یہ مہارت ان کی خود نوشت میں شائستہ زبان کی صورت موجود ہے ۔
تقریباً 70 سال گزرنے کے بعدبھی پاکستان تعلیمی بدحالی کا شکار ہے۔ اس خرابی کا ذمہ دار پڑھانے کا عجیب و غریب طریقہ اور مخلوط زبان میں تعلیم ہے ۔ اشرافیہ کے اسکول کے علاوہ زیادہ تر اسکولوں میں اسی قسم کی تعلیم دی جاتی ہے ۔سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مسئلہ زبان کا نہیں ہے ۔ ان اسکولوں میں اساتذہ اسی زبان میں تعلیم دیتے ہیں جو ان کے علاقہ میں بولی جاتی ہے ۔البتہ وہاں تعلیم کا تناسب کم ہے۔نصابی کتب اردو یاانگریزی زبان میں ہوتی ہیں ۔طلباء کو یہی زبان پڑھنی پڑتی ہے اور پھر اسی زبان میں انہیں سوالات کے جوابات لکھنے کو کہا جاتا ہے۔
نتیجتاً رٹنے اور رٹانے کا رواج جاری ہےاس وجہ سے بچہ خود اپنی سوچ سے نہ کچھ لکھ سکتا ہے اور نہ ہی اس میں تخلیقی فکرکی صلاحیت پیداہوتی ہے۔ابھی یہ فیصلہ کرناباقی ہے کہ کس زبان میں تعلیم دی جائے اور تعلیمی نظام میں مادری زبان کا کیا کردار ہوناچاہیے۔
ہمارے ماہرین ِ تعلیم کو یہ بھی نہیں پتا کہ بچہ زبان کس طرح سیکھتا ہے اور اس سیکھنے کے عمل کو کس طرح استعمال کیا جائے تاکہ تعلیم کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جاسکیں۔ مختصراًیہ کہ بچہ زبان کو قدرتی طور پر سیکھتا ہے یعنی اسے سن کر۔ یہ سیکھنے کا مرحلہ پیدائش کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے۔ بچہ اپنی زبان اپنے خاندان کے افرادکی باتیں سن کر ،بازار میں اور کھیل کودکے دوران اپنے ساتھیوں سے سیکھ کر بولتاہے۔ انہیں زبا ن کے قواعد یا ہجو سکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ بس دوسروں کو سنتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر وہ اسکول نہ گیا ہو تو بھی اسے(بشرطیکہ وہ جسمانی معذورنہ ہو) کوئی نہ کوئی زبان ضرور آتی ہے۔خواندگی ایک مختلف چیز ہے جسے ایک الگ منظم طریقے سے سکھانے کی ضرورت ہے۔
ہم اپنے تعلیمی نظام میں کوئی ایسی زبان متعارف کرواتے ہیں جس سے بچہ خود واقف نہیں ہے اور اساتذہ بھی اس زبان کی اہلیت نہیں رکھتے ۔اس طرح ہم خودزبان کے ذریعہ اکتساب کے عمل کو مزید الجھادیتے ہیں ۔
اس کا سب سے برا اثر بچے کے پڑھنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور کتابوں میں اس کی عدم دلچسپی ہوتی ہے ۔ محققین کا کہنا ہے کہ بچے جتنا زیادہ مطالعہ کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ ان کا علم بڑھتا ہے ۔ مطالعےکے نتیجے میں ان کی ذہنی ارتقاء میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر شروع ہی سے کتب بینی کو ایک ناخوشگوار اور محنت طلب کام بنا دیا جائے تو بچہ کتابیں پڑھنے سے کبھی لطف اندوز نہیں ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مطالعہ کا بہت زیادہ شوقین ہی کتب بینی سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام ہمارے بچوں پرایک اجنبی زبان مسلط کر کے انہیں تباہ کر رہا ہے ۔یہ زبان وقت سے پہلے نہ صرف سکھائی جاتی ہے بلکہ اس کے لیے راستہ بھی ہموار نہیں کیا جاتا۔ یہ سب ایسے اساتذہ کرتے ہیں جو خود دوسری زبان نہیں جانتے ۔اس کا طریقہءِ کار بھی غلط ہے۔ بجائے اس کے کہ بچوں کوپہلے الفاظ کا ذخیرہ دیں ہم انہیں براہ راست پڑھنا لکھناسکھاتے ہیں ۔اس طرح یہ کام مشکل ہوجاتاہے۔ ایسے میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہمارے بچے کتابوں سے دور ہوگئےہیں۔ وہ بڑے ہونے کے بعد بھی کتب بینی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔
کتابیں پڑھنے کے نتیجہ میں جو معلومات ملتی ہیں بچہ اسے اپنی ذہنی صلاحیت کے مطابق سیکھ کر جاننے کے تجربہ سے محروم رہتا ہے ۔یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ خودسے معلومات حاصل کرنے کا شوق ان میں پیدا ہی نہیں ہوتا۔ تخلیقی سوچ انسان میں پیدائشی طور پر ودیعت کی گئی ہے لیکن یہ تباہ کردی جاتی ہے۔
اس سے یہ واضح ہو تا ہے کہ پاکستان میں کتابوں کی صنعت زبوں حالی کا شکارکیوں ہے ۔ جب بچوں کوان کی اپنی زبان میں کتابیں نہیں دی جاتیں جنہیں پڑھ کر انہیں مزہ آنے لگے ۔ان حالات میں کتابوں میں دلچسپی لیے بغیر ہی ان کی محض جسمانی نشونما ہی ہوتی ہے ۔

ماخذ: روزنامہ ڈان https://www.zubeida-mustafa.com
19 پریل 2024 کوشائع ہوا۔