تحریر: زبیدہ مصطفیٰ
اردو ترجمہ : سیما لیاقت
تیس (30) سال سے زائد عرصے تک ہم دونوں میں ایک جذبہ مشترک رہا جو کتابوں کی قدردانی کا تھا۔ ہم دونوں کو کتابیں پڑھنا اور اس خزینے کو جمع کرنا بہت پسند تھا۔ حالانکہ ہمارے مطالعہ کی زبان اور ذوق دونوں ہی مختلف تھے۔ لیکن کتابوں کا سحر ہی کچھ ایسا ہوتا ہے جوایک خاص بندھن میں باندھ دیتا ہے ایسا تعلق جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ اب میں اپنی ‘کتاب دوست’ صباحت کلیم کے لیےبہت افسردہ ہوں۔جو 25 جون کو انتقال کرگئیں اور اپنے پیچھے اہلِ خانہ کو غم سے نڈھال کر گئیں۔
میری پہلی ملاقات صباحت سے 1990 میں ہوئی۔ جب میں ڈان اخبارکے لیےکسی پیشہ ور لائبریرین کی تلاش میں تھی۔ایڈیٹر نے مجھے لائبریری کی نگرانی کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایک صحافی لائبریری کی ضروریات کواچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ ان تین سالوں میں لائبریرین کی تلاش میں ،میں بہت مایوس ہوگئی تھی۔ پہلے دو لائبریرین جن کاانتخاب کیا گیا وہ ہماری توقعات پر پورا نہیں اتر سکے تھے۔ان میں سے ایک بہت سست تھے اور دوسرے صاحب بہت جلد باز ضرور تھے لیکن اپنے ہی باہر کے معاملات میں ۔ میری تیسری کوشش باآور ثابت ہوئی۔ جب ایک نوجوان خاتون نے اس کام کے لیے آمادگی ظاہر کی ۔جس کے غیر معمولی اعتماد اورعلم سے میں بے حد متاثر ہوئی۔ پھر میں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اس طرح صباحت کا ڈان اور میرے ساتھ ایک طویل رشتہ کا آغاز ہوا۔ وہ اخبار کے لیے صحافیوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور مارکیٹنگ شعبے کے اراکین کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہوئیں۔ وہ ہارون ہاؤس(جہاں ڈان اخبار کادفترواقع ہے )کی ہر منزل پر سب سے زیادہ متلاش شخصیت تھیں۔انہوں نے میرے انتخاب کو درست ثابت کردیاتھا۔
صباحت پر اُ س کے پیشہ کو نازتھا۔ وہ خواہشمند نوجوان لائبریرین کے لیے ایک عملی نمونہ تھیں۔ ان کی پہلی لگن یہی تھی کہ قارئین کے لیے معلومات کو فوری طور پر قابلِ رسائی بنایا جائے۔وہ قارئین جو اداریہ نویس بھی ہوسکتے تھے۔ جو 50 سال قبل پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات جانناچاہتے ہوں ۔اور یہ سب کچھ انٹرنیٹ سے پہلے کی دنیا تھی جب Keesings’ Contemporary ArchiveاورWho is Who کے علاوہ اخباری تراشوں کی فائلوں کی ورق گردانی ہی معلومات پہنچانے کا اہم ذریعہ تھیں۔یہی وہ واحد طریقہ تھاجس سے تفویض کردہ تحریر کووقتِ مقررہ پر مکمل کرلیا جاتا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کس طرح صباحت نے اپنے تخیل اور جمالیاتی حِس کو استعمال کرتے ہوئے لائبریری کو ایک خوشگوارجگہ بنایا جس نے پڑھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ کتابوں کی درجہ بندی صاف ستھرے کیٹلاگ میں ہوئی اور 400 سے زیادہ تراشہ کی فائل موجود رہتی تھیں۔ جو قاری کو باآسانی کسی بھی شائع ہونے والی خبر تک پہنچنے میں مدد دیتی تھیں۔
صباحت کی سب سے بڑی کامیابی ڈان اخبار کا انڈیکس تیار کرنا ہے ۔مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ جب اخبار کمپیوٹرپر تیار ہونے لگا تو انڈیکس بنانے کا موقع ملاجو ہر لائبریری کا خواب ہوتا ہے۔ یہ ایک مشکل کام تھا لیکن مجھے صباحت کی صلاحیت پر پورااعتماد تھا اور اس نے یہ کر دکھایا۔ معلومات کو کھوجنے اور اس طرح ترتیب دینے کی اس کی یہ فطری جبلت تھی کہ اسے آسانی سے بازیافت کیا جاسکے۔ صباحت نے جو کام شروع کیا اس کی تعریف ایک محقق ہی کرسکتا ہے۔ڈان کے انڈیکس میں کسی خاص چیز کو تلاش کر نے کے دوران آپ کو وہی مطلوبہ چیز ملے گی جس کی آپ کو تلاش ہے۔ آپ کو گوگل کی طرح لاکھوں یا اس سے زیادہ غیر متعلقہ تجویز کردہ جوابات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انڈیکس کو ترتیب دینے ، بنانے اور اسے برقرار رکھنے کا پورا سہرا صباحت کے سر ہے۔ وہ اکیلے ہی اسےثابت قدمی کے ساتھ کرنے کی مہارت رکھتی تھی اور جب کوئی فائل خراب ہو جاتی تو اسے دوبارہ تیار کرتی تھیں۔محققین تک یہ سہولیات پہنچنے میں ڈان اخبارکا بڑانام ہوا، ڈان اخبار کو بہت نیک نامی ملی۔جہاں محقق اپنی کتابوں اور مقالہ جات کی تیاری کے لیے آتے اور اس بیش بہا خزانے سے استفادہ کرتے۔
وہ بہترین رفیقِ کار تھیں ۔اردو ادب بالخصوص شاعری کے بارے میں ان کا علم غیر معمولی تھا ۔ قوالی میں ان کی دلچسپی تھی۔ لیکن ایک دوست سے بڑھ کروہ ایک ایسی شخصیت تھیں جوہمیشہ آپ کی مدد کے لیے تیار رہتیں۔ وہ میری بتدریج کم ہوتی ہوئی بصارت کے بارے میں زیادہ فکر مند تھیں ۔میں جب بھی کسی موضوع پر لکھنے کا ارادہ کرتی وہ خاموشی سے اس سے متعلق تمام معلومات کو اکٹھا کرڈالتیں جس کی بدولت میرا مضمون یقینی طور پر ممکن ہوجاتا۔ ایک اشاریہ ساز کے طور پر صباحت کی مہارت سے بہت سے مصنفین کو فائدہ پہنچا۔ مجھ سے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ میری تمام کتابوں کے انڈیکس بنائیں گی ۔اپنا یہ وعدہ انہوں نے پورا کیا ۔مجھے ان کی اس بات پر بہت مان ہے۔ جب دوستی اور پیشہ ورانہ تعاون یکجا ہو جائے تو اس سے زیادہ خوش قسمتی بھلا کیا ہوگی۔
اپنے نام (جس کا مطلب خوبصورتی ہے) کی طرح صباحت کا دل بھی خوبصورت تھا ۔ایک مہربان اور فیاض جس نے بھی اسے مدد کے لیے پکارا فوراً جواب دیا۔ چاہے وہ بیمار دوست ہو جس کو ساتھی کی ضرورت ہو یا گھریلو خدمت گار کا بچہ جسےعلاج معالجہ کی ضرورت ہو۔صباحت ہر وقت مدد کے لیے موجود ہوتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار اس نے مجھے 12 سال کی ایک لڑکی کے بارے میں بتایا تھا جس کی ٹانگ جل گئی تھی اس کا علاج بھی نہیں کیا گیا تھا۔ جیسے جیسے وہ بچی بڑی ہوئی اس کا معمول کےمطابق چلنااور اسکول جانا بھی مشکل ہوگیا ۔صباحت نہ صرف اس بچی کے ساتھ اسپتال جاتی بلکہ اس نے کئی مہینوں تک اس کےخاندان کی مالی مدد کو جاری رکھا کیونکہ وہ بچی بری طرح سے غذائیت کی کمی کا شکار تھی۔صرف یہی نہیں بلکہ صباحت کی بدولت وہ لڑکی مکمل صحت یاب ہو گئی یہاں تک کہ تعلیم مکمل ہونے پر اس کی شادی کردی گئی۔صباحت نے کتنی زندگیوں کو بہتر بنایا جس کا ہمیں علم بھی نہیں۔اس نے لوگوں کی جو مدد کی وہ خاموش لیکن عملی تھی۔
کیا ایسے ہی موقع کے لیے اس کے پسندیدہ شاعر غالب نے نہیں کہا تھا:
رگوں میں دوڑتےپھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
ماخذ: روزنامہ ڈان
14 جولائی 2023 میں شائع ہوا۔