وہ بہترین جانتی تھیں

تحریر:      زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ :     سیما لیاقت

اتنی  جلدی کیوں گئیں ؟ جاتے ہوئے الوداع کیوں نہیں کہا؟ افسوس کہ اب ان سوالوں ں کا جواب ممکن نہیں ۔  فریدہ اکبر جو پاکستان میں  ڈاکٹر ماریہ مونٹیسوری  فلسفے کی بہترین ترجمان تھیں وہ اب ہمارے درمیان  نہیں رہیں۔  10 جنوری کو وہ اپنے پیارے خاندان، دوستوں، مونٹیسوری برادری اور چاہنے والے طلباء کو چھوڑ کر چل بسیں۔

فریدہ اکبر  کے مزاج میں عجزوانکساری تھی ۔ان کی اس  خاموش شخصیت کے پیچھے ایک خوبصورت ذہن تھا ۔جس کا  بخوبی اندازہ ان  سے گفتگو  کے بعد ہوتا۔وہ سماجی فلاسفر، رائج  شدہ تعلیمی نظام اور بچوں کی نفسیات سے متعلق غیر معمولی علم رکھتی تھیں۔ کتابوں سے  ان کی والہانہ محبت اور دوسروں کی بات کو تحمل سے سننا یہ وہ صلاحیتیں  تھیں جنہوں نے انہیں صاحبِ عظمت بنادیا تھا۔طلباء اوروالدین اکثر ان سے اپنے مسائل پر گفتگو کرتے جہاں وہ انہیں نہ صرف سنتی تھیں بلکہ مشاورت کے ذریعہ ان کی ہمت بھی بندھاتی تھیں ۔

گُل مِن والایہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ڈاکٹر ماریہ مونٹیسوری سے مونٹیسوری نظام کو سمجھا ،اس کی تعلیم حاصل کی۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے  1949 میں پاکستان مونٹیسوری ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔ فریدہ اکبر اکثروبیشتر  اپنے سرپرست گُل من والاکی قدرومنزلت  کو دہراتی رہتی تھیں ۔انہی کی سرپرستی نے بچے کی ایک معجزاتی دنیا کو دریافت کرنے میں  ان کی رہنمائی کی۔ فریدہ اکبر نے نفسیات اور تعلیم دونوں ہی مضامین میں ماسٹرزکی سند حاصل کی تھیں ۔احبہ نے  جنہوں نے بچے کی ماسکے بعد انہوں نے 1975 میں  مونٹیسوری ڈپلومہ کیا۔ پھر وہ مونٹیسوری کی راہ پر  چل پڑیں ۔پاکستان مونٹیسوری ایسوسی ایشن میں شمولیت کے بعد وہ گُل من والا کی بہترین معاون بن گئیں یہی نہیں بلکہ پاکستان میں  ان کا نام مونٹیسوری تعلیم کو جاری رکھنے والی اہم شناخت بن گیا تھا ۔ وہ ‘Trainers of Trainers’بنیں ۔کچھ عرصہ بعد  1999میں  مونٹیسوری ٹیچرز ٹریننگ سینٹر کی چیف ایگزیکٹو اور ڈائریکٹرمقرر ہوئیں ۔2020 میں وہ ریٹائرہوگئی تھیں۔

مونٹیسوری فلسفے کی گہرائی اور اس کے   نفاذکے طریقے کو وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں اگر حکومت ان کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتی تو وہ پاکستان میں پڑھنے والے چھوٹے بچوں کی ایک بہترین دوست ثابت  ہوسکتی تھیں۔ وہ بچے کو ایک محفوظ ماحول میں آزادی دینے پر یقین رکھتی تھیں تاکہ بچہ خود اپنی صلاحیتوں کو جان سکے ۔اور اِس کی  حسی، حرکاتی، ​​جذباتی اور ذہنی ارتقاء اِس کی اپنی انفرادی رفتار سے ہو ۔وہ اکثر گلوگیر لہجہ میں  کہتی تھیں کہ  “اساتذہ بچے کو نظم و ضبط سکھانے کے لیے اس پر اتنا  جبر کیوں کرتے ہیں ؟” وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ  “آپ کسی بچے کو تنقیدی سوچ نہیں سکھا سکتے۔ یہ صلاحیت پیدائشی  طور پر اس  کے اندر ہوتی ہے ۔ اگر آپ بچےکو اس کی مادری زبان میں اظہار کرنے کی اجازت دیتے ہیں تووہ اپنی ہی زبان میں سوالات پوچھتا ہے اورآپ کو  اس کے جوابات دینے ہونگے ۔ اسے کسی  ایسی زبان میں پڑھانا جسے وہ نہیں جانتا ہو۔ یہ اجنبیت اسے خاموش کردیتی ہے ۔ان کی باتوں میں بہت دانائی تھی ۔ بچے کے تقاضے اور اسے برقرار رکھنے میں ان کی باتوں سے رہنمائی لی جاسکتی ہے ۔

 

میں نے” آؤ کھیلیں مرکز” کے نام سے ایک پلے سینٹر شروع کیا ۔تاکہ یہ دیکھاجاسکے کہ چھوٹے بچے کس طرح پرسکون ماحول میں اپنی زبان میں سیکھ سکتے ہیں  ۔اس تجربے کے لیےمیں نے ان سے   رہنمائی کی درخواست کی ۔جس پر انہوں نے رضامندی کااظہار کیا ۔ہمارے اس مرکز میں معاون تدریسی اشیاء ہوتی تھیں جس کا مقصد یہی ہوتا تھا کہ بچہ ان مختلف اشیاء میں سےاپنی پسند کاانتخاب کرتا اوربذریعہ کھیل اس سے سیکھتا تھا یہاں اکثریت بچوں کی زبان اردوتھی ۔چونکہ والدین ہمارے مقاصد کو سمجھنے میں ناکام رہے اسی لیے وہ مرکز زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہا ۔ لیکن  مجھے  بچے میں ذہنی نشونما کی رفتاراور ان کے خیالات  کوبہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جس کی وجہ سے میں نے بہت سیکھا ۔مرکز میں میری دوست حوا باقاعدہ موجودہوتی تھیں جن کی خدمات مرکز کے لیے رضاکارانہ تھیں  ۔ فریدہ اکبر بچوں کو پڑھانے کے لیے اکثر حوا کے ساتھ ہوتی تھیں ۔ وہ حوا  کو مونٹیسوری طریقوں کے اصول سمجھانے کے لیے کئی باراپنے گھر ظہرانہ پر بھی مدعو کرتی تھیں ۔ ان میں چھوٹے بچوں کو سکھانے کا اتنا جنون تھا کہ  وہ بچوں کو سکھانے کی غرض سےاپنے ہاتھوں سے فلیش کارڈزتیار کرتی تھیں ۔میں ان کے احترام میں اس کام کے لیے کئی بار منع کرتی تھی مگر میرے  احتجاج کے باوجود وہ اس کام پر مُصر رہیں۔وہ کہا کرتی تھیں کہ مجھے اس کام میں مزہ آتا ہے ۔

مجھے لگتا ہے کہ ان کے اندر ایک استاد کی روح تھی جو انہیں ہمیشہ اس جذبہ کے لیے آمادہ رکھتی  ۔ تعلیم سے ان کی وابستگی بے مثال تھی۔ میں جب مختلف اسکولوں کا دورہ کرنے جاتی تو اکثر وہ بھی میرے ساتھ جایاکرتی تھیں ۔ اور جب وہ اپنے مشاہدہ کی بدولت باریک بینی سے تجزیہ کرتیں تو میں حیران رہ جاتی ۔پھر میں اس تجزیہ پر مزیدغورکرتی تو وہ درست ثابت ہوتا ۔ تعلیم سے متعلق کسی بھی معاملے میں جب ان کے مشورے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ ایک بار انہوں نے اپنا پورا دن کھیرو ڈیرو سے آئے ہوئے کمیونٹی اسکول کے دو اساتذہ کے ساتھ گزارا۔جہاں انہیں مونٹیسوری تدریسی مواد بنانا اور کمرہ ءِ جماعت میں اس کے استعمال کا طریقہ سکھایا ۔پاکستان مونٹیسوری ایسوسی ایشن کے رکن کی حیثیت سے انہو ں نے شمالی علاقہ جات میں اسکول قائم کرنے میں مدد کی ۔متعدد مونٹیسوری کانفرنسوں میں شرکت کی اور کئی ممالک میں مونٹیسوری اداروں کے لیے بیرونی ممتحن مقرر ہوئیں۔ وہ ایک ایسااثاثہ تھیں جن کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ایمسٹرڈیم میں قائم ایسوسی ایشن مونٹیسوری   انٹرنیشنل نے  انہیں   سائنسی تدریسی کمیٹی   کادو بار کا رکن  مقرر کیا۔

ان کی شخصیت   کے کئی خوبصورت پہلو تھے ۔ اردو ادب سے ان  کی محبت،  دانشورانہ سرگرمیوں جیسے پینل ڈسکشن، لیکچرز، فیسٹیولز اور کتابوں سے متعلق تقریبات میں شرکت کرتی تھیں ۔ان کی اس دلچسپی نے انہیں علم دوست  شخصیت اور پروقار ساتھی بنادیا تھا ۔پیاری دوست کے سکون کے لیے دل سے دعائیں ۔ لگتا ہے علامہ اقبال نے یہ شعر صرف فریدہ اکبر کے لیے لکھا ہے:

  تِرےعلم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی

                                                                                           نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نوا کوئی