کراچی کہاں ہے؟

تحریر:      زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ : سیما لیاقت

شہرکراچی کے پہلے میئر جمشید نسروانجی کی 134ویں سالگرہ تھیوسوفیکل سوسائٹی کی جانب سےمنائی گئی ۔حسبِ توقع تقریب میں ہونے والی تقاریر کا محورکراچی ہی تھا ۔ اہلِ کراچی کے  لیے نسروانجی صاحب کی قابلِ قدر خدمات کا سنکر میرادل مسرت سے لبریز ہوا۔ ان تمام گفتگو سے جو بات سامنے آئی وہ یہی تھی کہ اس شہر کو صاف ستھرا،خوبصورت اور قابلِ رہائش بنانے کے لیے غیرمسلم کمیونٹی کا بہت بڑا کردار رہاہے ۔جہاں تعلیمی ادارے ،علاج معالجہ کی سہولیات اور معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز ہے ۔

تمام مقررین نے اس بات کااعتراف کیا کہ کراچی شہر اپنی عظمت کھو چکا ہے۔ موجودہ میئر مرتضیٰ وہاب نے حاضرین کوبتایا کہ انہیں  اپنے دفتر میں رکھے  ہوئے نسروانجی کے مجسمے کو اکثرکپڑے سے ڈھانپنا پڑتاہے۔تاکہ وہ تمام برائیاں جو کراچی میں آچکی ہیں وہ ان کے سابقہ پیش رو کو نظر نہ آئیں۔ گویا یہ بات کہہ کرانہوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ۔

پروگرام میں  شہر کی ملکیت اور اسے اپنانے کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت پر بہت سی باتیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ  اس ہمدردی کا بھی بہت ذکر رہا جو مسٹر نسروانجی اور ان کے ہم عصروں نے آبادی کے ساتھ ساتھ رہنے والے جانوروں کے لیے دکھلائی تھی۔

اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان احساسات کو ختم کرنے کی وجہ کیا ہے؟  کراچی کو اپنانے والا  یا اس سے تعلق کا احساس  ظاہر کرنے والاآخر کوئی بھی کیوں نہیں ہے ۔ایک نقطہ ءِ نظریہ بھی ہے کہ کراچی کی آبادی کی نوعیت کی وجہ سے کوئی بھی اسے اپنانے کے لیے تیار نہیں ۔کراچی بنیادی طور پر مہاجروں کا شہر بن چکا ہے جو یہاں  دوسرے شہر سے روٹی روزی کمانے  کے لیے آتے ہیں ۔اور اپنے آبائی گھر صرف مرنے اور دفن ہونے کے لیے ہی جاتے ہیں ۔ کراچی کی مثال ایک دودھ دینے والی گائے جیسی ہے ۔جس کی قدر صرف اسی حدتک ہے جب تک  یہاں آنے والوں کامقصد پورا ہوتا رہے ۔ اسی لیے کراچی شہر ان کے نزدیک صرف جائے ملازمت ہے ناکہ  سکونت اختیار کرنے کی جگہ۔

اس سلسلہ میں ایک سوچ یہ بھی پائی جاتی ہے کہ ترقی نہ ہونے کی وجہ مہاجروں کا شہرہونا نہیں بلکہ کچھ اورہی ہے ۔یوں تو 1941 کے گزیٹیئر میں اسے مہاجروں کا شہر لکھاگیا تھا ۔برطانوی منتظمین اپنے دائرہءِ اختیار ضلع کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد گزیٹیئر  رپورٹ شائع کیا کرتے تھے ۔کراچی میں ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ اس کی آبادی قدرتی اضافے کی نسبت غیرمعمولی واقعے کے سبب زیادہ بڑھی ہے۔ اس ہجرت نے کراچی کو ایک عروس البلاد شہر بنا دیا ہے۔حالانکہ اس سے قبل شہرپر حکومت  کرنے والے مخلص رہنماؤں نے شہر کی ترقی کو کبھی رکنے نہ دیا ۔ ہم میں سے جو کئی دہائیوں سے کراچی میں مقیم ہیں وہ اس  غیرمتوازی  ترقی کے گواہ ہیں۔  1941 میں شہر کی آبادی 434،887  سے بڑھ کر   1951 میں 1,137,667 ہو گئی۔ ہندوستان سےآنے والے مہاجرین کی آمد کےبعدآبادی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ۔ 1998 میں آبادی  9,802,134 تھی جو 2017 میں  1کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ گئی۔

وجہ چاہے کچھ بھی رہی ہو مگریہ بات طے ہے کہ   ہجرت نے ایک تنوع پیدا کردیا ہے جس نے شہر کی ثقافت کو تقویت بخشی  اور لوگوں کو مختلف ثقافتوں کا امین اور رواداری کا حامل بنا دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان خصوصیات نے کراچی کو زیادہ پر کشش، سوجھ بوجھ کی صلاحیت  ،تکنیکی مہارت کے ساتھ تخلیقی اور معاشی طور پر زرخیز بنا دیا ہےجو  دور دراز کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ حکومت  ملک بھر سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 56 فیصدحصہ  صرف کراچی سے وصول کرتی ہے  جب کہ قومی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی  50 فیصد اور سندھ کے سیلز ٹیکس کا 96 فیصد کراچی سے آتا ہے۔تو پھر کراچی کے حکمرانوں کو کیا چیز آڑے آتی ہے کہ وہ شہر کو قابلِ رہائش بنانے سے روکے رکھتی ہے جیسا کہ کئی دہائیوں پہلے شہرکراچی  ہوا کرتا  تھا۔ کراچی کے زوال کی سب سے اہم وجہ  انتظامیہ کی بدنظمی، ناقص منصوبہ بندی اور بدعنوانی کو سیاست میں ملوث کرنا ہے۔ ان سب کے نتیجہ میں شہر نظر انداز ہوا۔ یہ غفلت ذہنی الجھاؤ اور پریشان کن مسائل کو جنم دیتی ہے جس نے روزمرہ کی زندگی کوایک چیلنج بناڈالاہے ۔شہر میں امن  و مان کی خرابی  نےعوام کو مزید طبقات میں تقسیم کیا ۔ ان حالات کا فائدہ کسے جاتا ہے؟انہیں جو نہیں چاہتے کہ کراچی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ وہ قوت جو ایوب خان کے دور میں دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد  منتقل کرنے سے پہلے تھی۔ مگر اس کے بعد اختیارات کی مسلسل مداخلت اور  شہر میں دہری  رائے عامہ نے کراچی کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے جس سے شہر کی منصوبہ بندی اور  ترقی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ایسے حالات میں یہ ممکن ہے کہ کرپٹ اور استحصالی قوتیں ہی مزید آگے آئیں گی ۔ امیر اپنی دولت کے ذریعہ اپنی ضروریا ت پوری کرلیتے ہیں  جب کہ غریب اپنی ضروریات پوری کرنے کی تگ ودومیں شدید تکالیف اٹھاتے ہیں۔ انہیں وہ شفقت و ہمدردی  بھی نہیں ملتی جوگئے دنوں میں جانوروں کے ساتھ برتی جاتی تھی۔ عدم مساوات اور غربت کی اس شدت نے کراچی کو غیر محفوظ، غیر مستحکم اور رہنے کے لیے ایک مشکل میگا سٹی بنا دیا ہے۔ قومی سطح پر ہونے والا اختلاف شہری سطح پر بھی ظاہرہوتا ہے ۔آباد تقسیم کردیتی ہے ۔ایک چیلنج بناڈالتی ہے ۔رنے کے بعد گزیٹیئر میں رپورٹ شائع کرت بہر حال اس وقت جو میئر صاحب ہیں ان کے بھی چناؤ کے راستے غیر ہموار ہی تھے ۔ کل ہونے والے قومی انتخابات میں کراچی پر کیا گزرے گی ۔یہ  ہم جلد جان لیں گے۔لیکن یہ بات قابلِ افسوس ضرورہے کہ کراچی شہر ایک جدید اورعروس البلاد کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت کی وجہ سے تنازعات کا مرکز بن گیا ہے۔