160 سال میں مضبوط درمضبوط

تحریر :​زبیدہ مصطفیٰ
اردو ترجمہ: سیما لیاقت
اس سال کے اوائل میں سینٹ جوزف کانونٹ اسکول کراچی نے اپنے شاندار وجود کا 160 سالہ جشن منایا۔ میری طرح اورلوگوں کا بھی اس ادارے سے کسی نہ کسی طرح کا تعلق رہا ہے۔اس باوقار تقریب کے موقع پر خاص کرایک طالب علم کی حیثیت سے میں نےاپنی مادرِ علمی کے ساتھ وابستگی پر فخر محسوس کیا۔ مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان میں لڑکیوں کا کوئی دوسرا اسکول اتنی طویل المدتی اور عمدگی کے ساتھ موجود ہوگا۔

میں نے حال ہی میں سابق طلباء کے اعزازمیں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔جہاں راہداری سے گزرتے ہوئے پرانی یادیں ایک دم تازہ ہوئیں اور یہ لمحات جذباتی ہوگئے۔ میرا سینٹ جوزف کانونٹ اسکول سے تعلق دوہرا ہے۔ میری دونوں بیٹیوں نے بھی اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔وہاں ان کی اساتذہ نیلوفر منہاس اور فائزہ قاضی سے مل کرمیں بہت خوش ہوئی۔ اِنہوں نے اپنی طالبات کو ہمیشہ قدرےمحبت اوررہنمائی فراہم کی ہے جو ملازمت پیشہ ماؤں کی اولاد کی اولین ضرورت ہے جس کی میں بے پناہ شکرگزار ہوں ۔یہ احساس جو میرے اپنے بچپن کے اسکول کےتجربہ کے ساتھ جڑاہوا ہے وہ سینٹ جوزف کانونٹ اسکول کو بہت خاص بناتا ہے۔
اگرچہ جب میں پہلی بار یہاں آئی تھی تو کانونٹ اسکول کےوسیع وعریض کھیل کے میدانوں اوراطالوی طرزِتعمیرات نے میرے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کیے تھےلیکن ایک ادارے کو اپنی عظمت واضح کرنے کے لیےاینٹوں اورچونا مٹی سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے اساتذہ کی ضرورت جو اپنے طلباء میں علم، اخلاقیات اور دیانت اجاگر کرسکیں۔ اسکول میں یہ اقدار راہبہ (Nuns)کے مخصوص سفیدلباس کے ذریعہ آئی ہیں ۔ یہ اقدار سینٹ جوزف کانونٹ اسکول کےتعلیمی نظام میں معمارکا درجہ رکھتی تھیں ۔
زمانہ بدل گیا ہے۔ راہباؤں کے ملبوسات، اسکول کے تعلیمی ماحول اور یہاں تک کہ اُس ملک کی بھی سیاسی حیثیت بدل گئی ہیں ۔جہاں کانونٹ کی بانی ممبران نے1862میں قدم رکھاتھا۔یہ بانی وہ راہبائیں تھیں جن کا تعلق بیلجیئم کے شہر لیج کے ادارے Daughters of the Cross Institute سے تھا۔ جو چیزآج بھی بدستور موجودہے وہ ہے “انسانیت کی انتھک خدمت”، “مستقل تعلیمی حصول”، “مسلسل جدوجہد”، “عاجزانہ شائستگی” اور ” فرض کا احساس” سب سے بڑھ کربانی ممبران کے پیغام کے ذریعہ تعلیم کے مقصد کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ مختصراًیہ ہر طالب علم کی مکمل صلاحیتوں کو فروغ دینے ،صحیح و غلط میں تمیز کرنے اور تاحیات علم کی تلاش جیسی لگن کو پنپنے میں اپنا کرداراداکرتا ہے۔
پرنسپل (جو اب سینٹ جوزف کانونٹ کالج کی سربراہ تعین کی گئی ہیں) کے مطابق اسکول کی کامیابیوں کا سلسلہ ہمہ جہتی ہے ۔ سسٹر الزبتھ نیامت نے مختصراًاسکول کے کردار کو بچیوں کے لیے معیاری تعلیم کے علمبردار کے طور پر بیان کیا ہے۔ اسکول سے “مختلف شعبوں میں بہتر اور حیرت انگیز صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والی خواتین ” نکلی ہیں ۔آج جوزفین (جوزف سے اخذہے) میں سے ہزاروں خواتین پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔اسکول میں آج کل 2,200 طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ 1862 میں صرف 10طالبات تھیں۔
میں جب سینٹ جوزف کی راہباؤں اور عملے کی طرف دیکھتی ہوں تو دنگ رہ جاتی ہوں۔ تعلیم کی سربلندی کے لیے ان کی لگن قابلِ ستائش ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ریاست اور معاشرہ کی طرف سے بچے کی تعلیم ناقدری کاشکار ہواوراسے انسانی ارتقاء و ملک کی ترقی کے لیے اہم نہ سمجھاجاتاہو۔ اگر معاشرہ قدرکرتا توملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسیحی برداردی کو نہ صرف تعلیم بلکہ صحت کے شعبے میں بھی اپنی نمایاں خدمات اداکرنے پرپذیرائی ملتی۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ریاست مسیحوں اور دیگر غیر مسلم برادریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ انہیں آئین کے تحت زندگی اور آزادئیِ تحفظ کا حق اسی طرح حاصل ہے جس طرح مسلمانوں کو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کےسیاسی اور قانونی ڈھانچے کی بنیاداسلام پر ہے۔اسلام غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آنے اور ان کے عقائد کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر اس اصول پر عمل کیا جاتا تو کیا جڑانوالہ کا سانحہ ہوتا؟ یہ شرمناک بات ہے کہ پاکستانی ریاست اپنی فوجی طاقت کے باوجود اس گھناؤنے واقعے کو رونما ہونے سے نہیں روک سکی۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ ناکامی کسی ایک واقعے تک محدود نہیں ہے۔ ہمارا راستہ مسیحی برادری کے خلاف اسی طرح کے شرمناک جرائم سے بھرا ہوا ہے۔ شانتی نگر (1997)، سانگلہ ہل (2005)، گوجرہ (2009)، جوزف کالونی (2013)، پشاور چرچ حملہ (2013) اور کوئٹہ کے گرجا گھروں پر حملہ (2017) یہ افسوسناک واقعات یاد ہیں؟ یہاں تک کہ ملک میں مسلمان مذہبی رہنما بھی ان کی حمایت میں نہیں کھڑے ہوئے جن کی انہیں حفاظت کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو دیگر مذہبی برادریوں کا احترام کرنے کی تلقین نہیں کی ہے۔
مسیحی برادری زندگی کے تمام شعبوں میں امتیازی سلوک کا شکار رہی ہے۔ان کے خلاف توہینِ رسالت کے من گھڑت الزامات کا دھڑکا ان کے سروں پرخطرہ کی تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔ آسیہ بی بی کیس کو یاد کرنا ہوگا۔ یہ بے چاری خاتون سالہاسال موت کے دھانے پررہی ۔ انہیں بری کردیا گیا لیکن یہ فیصلہ عام ہونے سے پہلے ہی خاموشی سے انہیں بیرونِ ملک منتقل کردیا۔انتہا پسند اور متعصبانہ خیالات رکھنے والوں کی طرف سے بار بارنفرت کے اظہار کے باوجودمسیحی کمیونٹی اپنے مذہبی عقائد کی روشنی میں معافی، ہمدردی اور مہربانی جیسی اقدار کا مظاہرہ کرتی رہتی ہے۔ ان اقدار سے مسلم کمیونٹی کے ایک ایسے طبقے کو سوچنے کی ضرورت ہے جو رجعت پسندی کوتقویت دیتی ہے۔
ماخذ: ڈان اخبار میں، 22 ستمبر 2023 کو شائع ہوا۔