ایک رہنما

تحریر:  زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ : سیما لیاقت

پاکستان میں خواتین کی تحریک نے   اپنے آغاز سے اب تک ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ ان تحریکوں نے اپنی جدوجہدکے دوران خواتین کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کو بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مختلف شکلیں اور حکمت ِعملی اختیار کی ہے۔ البتہ اس تمام جہد  میں جو چیز نمایاں طور پر غائب رہی وہ  خواتین کی  جنسیت کا موضوع تھی۔ پاکستان کے قدامت پسند  اور تنازعات سے بھرے ماحول میں عوامی سطح پر بات کرنے کے لیے یہ ایک حساس مسئلہ رہاہے۔

ہمارا معاشرہ کس  قدر دقیانوسی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ1978 میں، میں نے چھاتی کے کینسر پر  ایک مضمون لکھا تھا  ۔جس کے ردعمل کے طور پر باریش بزرگ حضرات کا ٹولہ جو اپنے آپ کو اخلاقیات کا محافظ گردانتے تھے۔انہوں نے ایڈیٹر کے دفتر میں زبردستی داخل ہوکر اس  مضمون کو فحاشی کا نام دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ایڈیٹر صاحب جوکہ حقوقِ نسواں کے حامی  اور ترقی پسندانسان تھے انہوں نے ان حضرات کے احتجاج کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ  چھاتی کا کینسر عریانی نہیں بلکہ خواتین کے لیے زندگی وموت کا مسئلہ ہے۔

اس معاشرہ  میں خواتین کے تولیدی اعضاء کے بارے میں جو بھی  واضح لفظوں میں لکھنے کی ہمت کررہا ہے یقیناً وہ بہت حوصلہ مند ہے ۔آج بھی بہت سے ایسے قارئین ہیں جن کی سوچ غلط اور پدرانہ ہے۔ ایک بے ضرر تحریر بھی ان کے لیے فحش بن جاتی ہے۔ ان کا غصہ ان کی اس سوچ کی ترجمانی کرتا ہے کہ عورتیں جنسی اشیاء ہیں جوصرف مرد کی خواہشات کی تسکین کے لیے بنائی گئی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے بلاگز نے  ناقدین کے غصے کو دعوت  دی ہے ۔ ڈاکٹرصاحبہ پیشے کے اعتبار سے ماہرِ امراضِ نسواں ہیں اور یہ ان کی خوش نصیبی ہے  کہ ان کےسراہے جانے والے بہت ہیں ۔یہ بہت سی خواتین قاری کے لیے روشن خیالی کا پیغام لیکر آئی ہیں ۔جو ان کے بلاگز کو پڑھنے کے بعد یہ  محسوس کرتی ہیں کہ وہ اپنے جسم کواب  بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ  نے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور سے ایم بی بی ایس  کا امتحان  1990 میں پاس کیا ۔ غیر ملکی اور اعلیٰ  ڈگریوں کا لگاتا ر حصول انہیں نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ بناتا ہے بلکہ ڈاکٹر طاہرہ   کو یہ ادراک بھی دیتا ہے  کہ وہ کیا لکھ رہی ہیں۔ وہ عمان کی وزارتِ صحت اور سلطان قابوس یونیورسٹی میں باوقار عہدوں پر فائز ہیں۔

ان کے بلاگز کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں جبکہ پانچواں زیرِ اشاعت ہے۔ ایک  کھلاذہن رکھنے والا قاری بخوبی جان سکتا ہے کہ ڈاکٹر طاہرہ نے کس خوبی سے سائنسی حقائق کو سماجی تناظر میں لکھا ہے۔اس منظر نامہ  میں  حقوقِ نسواں کی بنیاد مضبوط  ہے۔ وہ خود کو ‘گائنی فیمنسٹ’ کے طور پر متعارف کرواتی ہیں ۔

انگریزی اخبارات پڑھنے والی خواتین ڈاکٹر طاہرہ کے بیان کردہ  مضامین سے واقف ہیں کیونکہ انگریزی زبان میں یہ سب  پہلے ہی لکھاجاتا رہا ہے۔ لیکن اب تک کسی نے بھی اردو زبان میں اتنا کُھل کر نہ لکھاتھا ۔ بچے کی پیدائش، دردِ زہ، ماہواری، سن یاس ، ماہواری میں بے ضابطگی اور بچیوں کے خلاف  صنفی غیر مساوات جیسے رویوں کا  احاطہ مختلف سماجی  حوالوں  سے کیا ہے۔ اگریہ موضوع چونکادینے والے ہیں تو  اس کی وجہ یہی ہے  کہ ان معاملات کو اب تک پردہ میں رکھا گیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان پر عوامی حلقوں میں بات ہو  تاکہ انہیں سماجی طور پر قابل قبول بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر طاہرہ نے خواتین کے خلاف ہونے والے ہولناک جرائم کا پردہ فاش کیاہے یہ جرائم اتنے بھیانک ہیں کہ پڑھنےوالے ششدر جاتے ہیں ۔ عورت کی اندام ِنہانی پر تالا لگانے کے مکروہ رواج کوبھلا کن لفظوں میں بیان کیا جائے کہ شوہر اس تالے کی چابی اپنی تحویل میں اس لیے رکھتا ہے کہ اس کی بیوی اسی  کی وفادار رہے ۔

طاہرہ نسوانی خوبیوں کی مالک ہیں جو سب سے زیادہ متاثر کن ہے۔ وہ ایک عورت کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی تہہ تک جلد ہی پہنچ جاتی ہیں۔وہ بتاتی ہیں کہ بچپن میں ان کا مشاہدہ خاصاتیز تھا اسی وجہ سے وہ آج بھی متجسس مزاج رکھتی ہیں  ۔وہ بے باکی سے کہتی ہیں کہ  “اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں غلط ہوں تو آپ کو ٹھوس دلائل کے ساتھ مجھے قائل  کرنا ہوگا ۔کوئی مجھے بلاوجہ خاموش نہ کرائےکہ میں لوگوں کی بے بنیاد  باتوں سے نہیں ڈرتی”۔ وہ یہ گُربھی جانتی ہیں  کہ خاموشی  ایک بے سروپا  نقاد کو چپ کرانے کامناسب طریقہ ہے۔

ان کا سب سے بڑا اثاثہ ان کا طبی علم اور  تحریری مہارت ہے جس نے انہیں ادبی خوبصورتی کے ساتھ بلاگ بنانے میں مدد کی۔ یہ مادرانہ احساسات ہی تھے  جس نے ان کی  چھپی ہوئی صلاحیتوں کو دریافت کیا ۔ ڈاکٹر طاہرہ نے اپنا پہلا بلاگ اپنی ماں کی موت کی رات لکھا۔یہ 2019 کی بات ہے۔ ان کی والدہ الزائمر کے مرض میں مبتلا تھیں ۔ غم  کی شدت نے طاہرہ کو لکھنے پر مجبور کیا، “میں نے اپنی ماں کو قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھا” اور بلاگ وائرل ہوگیا۔ پھر   2021 میں انہوں نے  گائنی بلاگنگ کا رخ کیا۔یہ وہ وقت تھا جب ان کی اپنی بیٹی  ماہواری  کے  کرب سے گزررہی تھی ۔اس اذیت نے انہیں یہ لکھنے پر مجبور کیا کہ ماہواری کا درد کس طرح ایک  عورت کے معاملاتِ زندگی کو بے بس کردیتا ہے ۔مرد حضرات کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ درد انسان کو تخلیقی سوچ کا حامل بھی بنادیتا ہے۔شاید اسی لیےفیض صاحب نے اپنے دل کے دورے کی تکلیف کو اپنے اشعار میں بیان کیا ہے ۔طاہرہ نے ان اشعار کے جواب میں خوب لکھا، “کاش فیض کو ماہواری آتی”۔

معاشرہ کی روایتی سوچ سے  طاہرہ ناراض ہیں ۔ایک ایسی سوچ جس میں  عورتیں خاندان کی  دوسرے لفظوں میں مرد کی عزت ہیں ۔اسی لیے عورت کے تولیدی اعضاء کے ساتھ شرم و حیا منسوب کردی جاتی ہے جنہیں  عجیب و غریب توہین آمیز نام دیئے جاتے ہیں۔سچ کو کوئی اور نام دینے سے حقیقت تو نہیں بدل سکتی۔

بدگمانی ہمارے معاشرے کی اصل بیماری ہے ۔ پاکستان میں مرد عزت کے نام پر آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں ۔افسوس کہ لڑتے وقت وہ  ایک دوسرے کی عورتوں کو برے ناموں سے پکارتے ہیں۔یہ اتنے لوگ جو ڈاکٹر طاہرہ کے بلاگ پر تنقید کررہے ہیں یہ لوگ اس وقت کہاں تھے  جب 1984 میں نواب پور کی گلیوں میں خواتین کو سرِ عام برہنہ  گھمایاگیا ۔اور جب2002میں  مرد وں کےہی  جرگے کے حکم پرمختاراں مائی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مردوں کی ہوس پوری کرنے کے لیے پاکستان میں ہر سال 30,000 لڑکیوں کو جسم فروشی کے گھناؤنے کاروبارکے لیے اغوا کیا جاتا ہے مگراس پر کوئی آوازنہیں اٹھتی۔  ایک ایماندار ڈاکٹر اور اچھی بلاگر    اس واہیات کی نشان دہی کرکے اسے درست  کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔