پاکستانی خواتین

تحریر:  زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ :  سیما لیاقت

آج 8 مارچ ہے ،خواتین کا عالمی دن ۔ہمارےلیے ایک موقع ہے کہ پاکستان میں خواتین کی تحریک پر نظر ثانی کریں ۔ آزادی کے 76 سال بعد یہ تحریک کہاں کھڑی  ہیں؟ اس سوال کا جواب مکمل طور پر فیم کنسورشیا کی سالانہ کانفرنس میں سامنے آیا۔جو حقوقِ نسواں سے متعلق بارہ تنظیموں اور ملک بھر سے پانچ پارٹنرزپر مشتمل نو تشکیل شدہ کنسورشیا ہے۔ اس پروگرام میں چارمختلف  سیشن رکھے گئے تھے ۔جن کے موضوع سیاست میں خواتین، نوعمر لڑکیاں، ملازمت کرنے والی خواتین ،موسمیاتی تبدیلی اور خواتین تھے۔ان پر تحقیقی مقالے پیش کیے گئے جس کے بعد  پینل مباحثوں کے نتیجہ میں کئی قابلِ فکر پہلو نکل کر سامنے آئے۔

یہ  بات بالکل واضح تھی کہ خواتین کی حیثیت اور انہیں بااختیار بنانے میں کافی ترقی ہوئی ہے لیکن بہت سی رکاوٹیں ابھی بھی  ترقی کی راہ میں  حائل  ہیں ۔

فرحت پروین کا ادارہ  NOWC اس کانفرنس کا میزبان تھا ۔انہوں نے  خواتین کو مردوں کی جانب سے ملنے والے تعاون کا اقرار کیا۔ ہمارے معاشرہ میں پدرانہ ڈھانچے کے باوجود یہ بات قابلِ ذکر ہے۔ تاہم یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ پروگرام میں  مردوں کی موجودگی نمایاں طور پر کم تھی۔ جیسا کہ فرحت نے یہ بھی بتایا کہ برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی  خواتین کے تمام مسائل حل نہیں ہوئے ہیں۔ صنفی عدم مساوات کے مسائل، خواتین کارکنوں کی کم اجرت، ان کی شراکت کو تسلیم نہیں کیا جانا، تشدد اور خواتین کا استحصال جیسی زیادتیاں بدستور جاری ہیں۔

یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ کچھ خواتین سیاست اور پیشہ ورانہ زندگی کے بعض دیگر شعبوں میں سرفہرست ہیں۔ لیکن یہ تناسب ابھی بھی کم ہے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ خواتین سے اتنا اختلاف کیوں؟ اس سوال کی حقیقت  اگست 2023 میں ملک میں ہونے والی مردم شماری میں بتائی گئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ 241 ملین کی کل آبادی میں خواتین کا تناسب صرف 49.1 فیصد ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہےکہ  خواتین میں زیادہ شرح اموات ان کی صحت کی مناسب دیکھ بھال  کے مواقع نہ ہونے کے سبب ہیں ۔ جس کی وجہ سے خواتین کمزور ہوجاتی ہیں اور ان کی صحت کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔یہ متاثرہ خواتین  کون ہیں؟ پسماندہ طبقے کی ایسی خواتین جنہوں نے غربت اور پدرسری معاشرہ کا دہرابوجھ اٹھایاں ۔ ہوا ہے ۔ان خواتین کی تعداد کا تعین ابھی ہمارے ماہرین اقتصادیات نہیں کرسکے ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق خطِ غربت 60 فیصد ہے۔کیا ان متاثرہ خواتین میں سے کسی  نے فائیو سٹار ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی ہو گی؟

کیا امیر طبقے کی خواتین اور ان کی بیٹیاں غذائی قلت کا شکار ہیں؟ کیاان کی خواتین دورانِ زچگی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں ؟ کیا ان کا خاندان بہت بڑا ہے ؟ان باتوں کے جواب میں  متاثرہ خواتین کواپنی زندگی پر کوئی اختیار نہیں ہے ۔ جب وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے   روٹی روزی کمانےباہر جاتی ہیں تو کیا ان خواتین کو اپنے چھوٹے بچوں کو گھر پراکیلا چھوڑنا پڑتا ہے؟ سچ  تو  یہ ہے کہ اس کانفرنس   میں موجود خواتین کو اس قسم کے مسائل لاحق ہی نہیں تھے اسی لیےغریبوں کے حقیقی مسائل پر بات ہی نہیں ہوتی ۔ پاکستان کی ساکھ کا نقصان ، سماجی اور معاشی عدم مساوات کا یکسر نظر انداز کیا جاناہے۔ جن خواتین کی آواز  سننے کی ضرورت ہے وہ ایسی محفلوں میں جگہ نہیں پاتی ہیں۔

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جس کا نام ‘دو پاکستان ‘ ہے۔)  دو پاکستان کاظم سعید کی کتاب کے عنوان سے مستعارلیا گیا ہے)۔ غریبوں کے مسائل  امیروں اور مراعات یافتہ طبقے کے مسائل  سے بالکل علیحدہ  ہیں ۔نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات جوزف اسٹنگلز  نے اسے 2فیصد بتایا ہے لیکن عوامی حلقوں میں کبھی اس  کا ذکر نہیں کیا جاتا ۔

اس امیر اور غریب طبقے کی نشان دہی شیما کرمانی نے کی ۔جو فیم کانفرنس میں اپنے فن کا مظاہرہ کررہی تھیں ۔وہ خواتین کے حقوق پر تحریکِ نسواں کی علم بردار ہیں ۔ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں فیم کانفرنس میں اعزاز سے نوازاگیا ۔شیمانے اپنے رقص کو مزاحمتی فن کے طور پر اس وقت شروع کیا جب انہوں نے تحریکِ نسواں کی بنیاد رکھی تھی ۔وہ امیر غریب طبقے کے فرق پر جو آواز اٹھاتی ہیں اسے  شیما کرکے بھی دکھاتی ہیں ۔انہوں نے اپنے ادارہ میں تمام ذات، عقیدہ، جنس اور طبقے کے مرداور خواتین کو شامل کیا  ہے۔ وہ غریب ترین علاقوں  میں جاکر ان کی حمایت میں اپنے رقص کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ورنہ اس طبقے کے لوگ ایسے ثقافتی فن سے کہاں محظوظ ہوپاتے ہیں ۔

پھر حل کیا ہے؟ یہ  مسئلہ صنفی عدم مساوات کا ہے  ۔جس کی وجہ سے پاکستان صنفی فرق کی درجہ بندی میں بالکل نیچے آجاتا ہے ۔ ڈیووس میں جو فہرست مرتب کی جاتی ہے ۔اس میں پاکستان اب   146 سے 142ویں  نمبر پر آگیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس معاشرے میں اتنی بڑی تعداد میں استحصال  کیا جارہاہو وہاں استحصال کرنے والوں سے یہ توقع  ہرگزنہیں کی جا سکتی کہ وہ چاندی کے تھال میں ان  متاثرین کے حقوق پیش کریں گے ۔ مظلوموں کے  حقوق کی  جدوجہد کو آسان بنانا ہوگا۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب پسماندہ افراد کو نہ صرف زیادہ باشعور بنایا جائے بلکہ انہیں اچھی تعلیم سے بھی بااختیار بنانے کی کوشش جائے۔ اگر ان کی ایک بڑی تعداد تعلیم یافتہ ہوجائے تو یہ لوگ بااختیار ہوجائیں گے ۔اس طرح طاقت کا جھکاؤ ان کی طرف بھی ہوگا ۔

یہ مراعات یافتہ خواتین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یہاں ہم بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ خواتین کے حقوق پر جدوجہد کرنے والے لوگوں نے تعلیم کے شعبہ میں صرف تعداد پر توجہ مرکوز کی ہے انہوں نےغریب طبقے کو دی جانے والی تعلیم کے معیار کو نظر اندزکیا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ ان کی تحریکوں نے نصابی کتب کے مواد میں  صنفی تفاوت پر تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ اس میں خواتین کا مرتبہ کم دکھایا گیا ہے ۔یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارے سکولوں میں کیا ہو رہا ہے۔ ان کو اس پر بھی نظر ڈالنی چاہیے کہ ہمارے اسکولوں میں تعلیم کا کیا معیار ہے  جہاں غریب کے بچے پڑھتے ہیں۔تعلیم کا مقصد مساوات ہوتا ہے لیکن  افسوس کہ کسی نے اس پر دھیان ہی نہیں دیا۔

ماخذ:          روزنامہ ڈان           https://www.zubeida-mustafa.com

ڈان میں 8 مارچ 2024 کو شائع ہوا۔