اصلی ہیرو

تحریر:      زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ : سیما لیاقت

پاکستان  کو دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والی پانچویں بڑی ریاست ہونے کا “اعزاز” حاصل ہے ۔ان چار گنجان آبادی والے ممالک کے برخلاف پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو ملکی و معیشت کی ترقی میں استعمال نہیں کرسکا ہے۔آبادی کےاس  تناظر میں اس سے آگے آنے والے چار ممالک کے برعکس پاکستان اپنی آبادیاتی ترقی اور معیشت کو اپنے فائدے کے مطابق سنبھالنے میں ناکام رہا ہے۔ سالِ گزشتہ میں ہونے والی مردم شماری میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ   پاکستان کی آبادی میں گزشتہ پانچ سالوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ جو کہ  اضافہ کی شرح کے ساتھ  سالانہ 2.55 فیصد ہے۔ 2017 کی مردم شماری میں  اضافہ کی یہ شرح  2.4 فیصد تھی۔

آبادی کے لحاظ سے دیگر اشارے  بھی بہتر نہیں ہیں۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2018-2017 کے مطابق  شرح پیدائش    3.6 ہے۔اس کے معنی ہیں کہ 15سے 49سالہ عمرکی شادی شدہ خواتین کے بچوں کا تناسب 3.6ہے۔جو مانع حمل کے طریقوں  کو استعمال کرتے ہیں ان  کی شرح  انتہائی کم یعنی  34 فیصد ہے (جس میں 10 فیصد لوگ  ایسے ہیں جوجدید طریقوں کے بجائے  انتہائی غیر معتبر وغیر معیاری روایتی طریقے استعمال کرتے ہیں )۔ وہ جوڑے جو خاندانی منصوبہ بندی کی خواہش رکھتے ہیں  مگر ان طریقوں تک ان کی رسائی نہیں ان کاتناسب  17فیصد ہے۔ یہ بیان کیے گئے  اعداد و شمار نہ صرف حکومت   کی کارکردگی کو بدنام کرتے ہیں بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں ہمارے حکمرانوں کی کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔

آبادی میں تیزی سے اضافے کی بہت ساری وجوہات ہیں ۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ حکومت  بڑھتی  ہوئی آبادی کے مسئلہ کو عوامی سطح تک لانے میں پس و پیش کا مظاہرہ کرتی ہے ۔ اس پر کھلے عام کوئی بات نہیں ہوتی ۔ اس خاموشی کی وجہ سے  رائے عامہ ہموار کرنے والے ادارے  ہمارے معاشرے کے پدرانہ ڈھانچے اور مروج طریقوں کے خلاف کارروائی کرنے  میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔اس کے نتیجہ میں خواتین کا درجہ ہمیشہ پست ہی رہاہے۔

اقوام متحدہ وقتاً فوقتاً آبادی کی ترقی پر بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرتا رہاہے۔ 1994 کی قاہرہ کانفرنس ایک تاریخ ساز کانفرنس تھی کیونکہ اس کانفرنس میں پہلی بار پروگرام  آف ایکشن پیش کیا  گیاکہ تمام ممالک کس طرح آبادی کو کنٹرول کرنے میں عمل  کرسکتے ہیں ۔یہ ایک مثالی تبدیلی تھی کہ پہلے آبادی میں تیزی سے اضافے کو قابوکرنے کی بات کی جاتی تھی مگر اب اس طرف توجہ دی گئی کہ یہ مرد اور عورت کا بنیادی انسانی حق ہے ۔

شرکت گاہ  کی ایک رپورٹ میں    تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ جس میں  خاص طور پر لڑکیوں کے لیےصنفی مساوات، شیرخوار، زچہ اور بچہ کی شرحِ اموات میں کمی،تولیدی صحت کی خدمات  کے ضمن میں عالمی سطح پر آسان رسائی  ،خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے پروگرام میں خاندانی منصوبہ بندی اور جنسی صحت کو شامل کرنا جیسے موضوعات شامل ہیں ۔ یہ  عوامی بھلائی کے لیے ایک قابلِ اعتماد طریقہ ہے۔

یہ سب موضوعات  پاکستان کی بساط یا صلاحیت سے باہر رہے ہیں ۔  1970 کی دہائی میں ضیاء دور سے پہلے  آبادی کے پروگرام نے معقول حد تک اچھی شروعات کی تھیں۔ آبادی کی ترقی کے مراکز پورے ملک میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔حوصلہ افزائی کرنے والوں اور دیگر مشیروں نے  اس پروگرام کو عوامی سطح تک مقبول کرنے میں  مؤثر کردار ادا کیا۔جس کی وجہ سے آبادی میں اضافے کی شرح 1.9 فیصد تک کم ہوگئی تھی ۔ پھر خواتین کے لیے ایک تاریک دور آیا اور اب تک جتنی بھی ترقی ہوئی تھی وہ الٹ پلٹ گئی۔ آبادی کے تناظر میں  اب مجھے اندھیرے میں روشنی کی کرن نظر آرہی ہے۔

آبادی کے شعبہ میں کام کرنے والے لوگ اکثر مجھے بتاتے ہیں کہ ان کا واسطہ ایسی خواتین سے پڑتا ہے جو زیادہ بچوں کے حق میں نہیں  ہیں مگر ان کے شوہر اس بات پر آمادہ نہیں  ۔ان میں سے کچھ خواتین  ایسی ہیں جو بچوں میں وقفہ کرنے کے لیے خاموشی سے مختلف ذرائع استعمال کرتی ہیں ۔لیکن ان خواتین کو یقین نہیں کہ آیا وہ جو کررہی ہیں  وہ صحیح ہے کیونکہ ان کے شوہر بڑے خاندان کے قائل ہیں ۔ چونکہ آبادی پر قابو پانے کے لیے  خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے ہمیشہ صرف خواتین ہی کے گرد گھومتے ہیں  ۔ مخمصہ یہ ہے کہ خواتین زیادہ بچے نہیں چاہتیں ۔زیادہ بچوں کی خواہش  ہمیشہ سے مردوں کی  رہی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کے کسی بھی آبادی کے پروگرام میں مردحضرات محرک نہیں رہے ہیں ۔

اب ہمارے پاس اس کے جواب میں  کھیرو ڈیرو کی ایک قابلِ ذکر لیڈی ہیلتھ ورکر کی مثال ہے۔ان کا نام مشکورہ ہے ۔جو 43سالہ بیوہ اور سات بچوں کی ماں ہیں۔مشکورہ جن خواتین کی زندگی کو سازگار بنانے کی کوشش کررہی ہیں وہ مشکورہ کو بہت عزیز رکھتی ہیں ۔مشکورہ ان کی نجات دہندہ کے طور پر ابھری ہیں ۔وہ خواتین انہیں  ‘ماسی’ کہتی ہیں ۔ مشکورہ کو علی حسن منگی میموریل ٹرسٹ(AHMMT) نے ایک  فعال کارکن  اور مشیر کے طور پر ملازمت دی  تاکہ وہ خواتین کو کم بچے پیداکرنے کے لیے راضی کریں اور اگر ان کا خاندان  پہلے سے  بڑا ہو تو وہ  نس بندی کروا لیں۔ مشکورہ  کا کارنامہ؟ دو سال کے مختصر عرصے میں انہوں نے اپنی کوششوں سے 144 خواتین کی نس بندی کروائی۔بہت سارے جوڑوں کو مانع حمل کے طریقوں پر راضی کرتے ہوئے خاندانی منصوبہ بندی کا مشورہ دیا ۔

مشکورہ کا اصل کارنامہ مردوں  کو خاندانی منصوبہ بندی پر قائل کرنا اور انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی صلاحیت ہے۔­میں نے ان سے پوچھا کہ وہ پدرانہ معاشرہ میں یہ سب کیسے کرلیتی ہیں ۔مشکورہ نے بتایا کہ انہیں اس معاملہ پر مردوں سے بات کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہوتی ۔وہ لوگوں کوقائل کرتی ہیں ۔ساتھ ہی وہ مردوں پر یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ   متواتر حمل کے نتیجہ میں  ان کی عورتوں کی صحت پر کیا برے اثرات ہوتے ہیں اور سب سے بری بات  یہ ہے کہ زیادہ بچوں کی صورت میں  ان کے بچوں کی  دیکھ بھال اور ضروریات نظر انداز ہوتی ہیں ۔ وہ مردحضرات کی توجہ اس پر بھی دلاتی ہیں کہ اس کا خود ان مردوں  کی ذات پر کیا منفی اثر ہوتا ہے۔

مشکورہ ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کا شعور رکھتی ہیں ۔انہوں نے پنے بچوں کو تعلیم دی ہے ۔وہ مردوں کی پسند سے واقفیت بھی رکھتی ہیں ۔وہ کہیں جاتی ہیں تو اپنا تعارف احممت کے نمائندہ کے طور پر کرواتی ہیں ۔اس طرح ان کا آدھاکام تو مکمل ہوجاتا ہے کیونکہ وہ جن 44 دیہاتوں میں جاتی ہیں وہاں کے لوگ مذکورہ ٹرسٹ کے کسی نہ کسی پروجیکٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہوتےہیں مثلاً  گھر کی تعمیر، بیت الخلا، سولر پینل، اسکول، صحت کی دیکھ بھال، مائیکرو لون وغیرہ ۔ مشکورہ نے جو دو طرفہ باہمی اعتماد قائم کیا ہے اسے وہ اپنے پروجیکٹ کے فائدہ کے لیے استعمال کرتی ہیں ۔

بغیر جانے ہوئے مشکورہ وہ تبدیلی لارہی ہیں جس کی تجویز اقوامِ متحدہ کی کانفرنس میں دی گئی تھی ۔ تبدیلی یہ تھی کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کو ایک معاشی مسئلہ کے بجائے انسانی حقوق کا معاملہ سمجھیں ۔

ماخذ:          روزنامہ ڈان

22مارچ  2024کو شائع ہوا۔