‘ASER’ کا فیصلہ

تحریر:  زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ :  سیما لیاقت

1843 میں جب جنرل چارلس نیپئر نے سندھ فتح کیا تو اس نے لندن میں اپنے افسران کو یک لفظی پیغام بھیجا ۔وہ پیغام تھا  “Peccavi” یہ ایک لاطینی لفظ ہےجس کا ترجمہ  ‘میں نے گناہ کیا ہے’۔ یہ ایک ذو معنی  جملہ تھا۔جہاں سندھ کا مطلب گناہ کے معنی میں لیا گیا حالانکہ یہ صوبے کا نام ہے ۔

180 سال بعدہمیں معلوم ہوا کہ سندھ کے خلاف ایک بار پھر ‘زیادتی ‘ کی گئی ہے۔اس صوبے کا مقدر لکھنے والے حکمران بچوں کو تعلیم دیکر بااختیار بنانانہیں چاہتے ۔ان ذمہ داران کی  اِس ناکامی کو آپ اور کیسے بیان کریں گے ؟ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ Annual Status of Education Report) ASER 2023 (کی پورٹ پر ایک نظر ڈالنے کے بعدسندھ صوبے میں تعلیم کی ابتر صورتِ حال آشکارا ہوجاتی ہے۔

ASERایک غیر سرکاری ادارہ ہے ۔جو پاکستان میں 09-2008سے  مستقل ہرسال بچوں کا تعلیمی معیار پرکھتا آرہاہے اور اس کے نتائج قابل اعتباربھی ہیں۔ 2023 میں  ASERنے  274 اضلاع میں 1,53,000 سے زیادہ بچوں کا تعلیمی معیار جانچا ۔ا س  رپورٹ کے نتائج چونکا دینے والے ہیں۔

جیسا کہ ASERکی پریکٹس رہی ہے۔جماعت سوئم ا ور اس سے اوپر کی جماعت کے طلباء کو اردو/سندھی میں کہانی ، انگریزی میں ایک جملہ پڑھنے اور  دو ہندسوں پر مشتمل تقسیم کا سوال حل کرنے کے لیے  دیا گیا۔یہ سوالات جماعت دوئم کی سطح کے تھے ۔ پورے ملک میں جماعت پنجم کے بمشکل نصف طلباء صحیح جواب دے سکے۔ ان کے نتائج بالترتیب  50 فیصد، 54 فیصد اور 46 فیصد رہے۔

صوبوں میں سندھ تعلیمی معیار کے نچلے درجے پر کھڑا ہے۔سندھ میں صرف 39 فیصد، 22 فیصد اور 27 فیصد طلباء نے امتحان پاس کیا۔ یہ بات ہمیں پریشان کرنے کے لیے کافی ہے ۔ تعلیمی میدان میں سندھ کی  بڑھتی ہوئی مسلسل ابتری بھی پریشان کن ہے۔ دس سال پہلے ASER 2014کی رپورٹ میں سندھ کے بچوں نے 41فیصد ،23 فیصد اور 30.5فیصد نتائج کے ساتھ اچھی کارکردگی کا بہترین مظاہرہ کیا تھا ۔

پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ گزشتہ ہفتے کراچی میںASERکی  سندھ رپورٹ کے اجراء کے موقع پرشرکاء نے کئی تجاویز پیش کیں جو پچھلی  کئی دہائیوں  سے دیگر لوگ دیتے چلے آرہے ہیں ۔مگر یہ سب نئی بوتل میں پرانی شراب کی مانند ہے ۔ اگر اس موقع پر سندھ کے وزیرِ تعلیم موجود ہوتے تو متعلقہ مسئلہ پر ان کی رائے جاننا بہتر ہوتا لیکن بدقسمتی سے وہ شرکت نہیں کرسکے ۔اسی لیے ہمیں انہی پرانے تجزیوں اور حل پر قناعت کرنی پڑی جو ہم ایک زمانے سے سنتے آئے ہیں۔

منصوبہ بندی ناقص ہے۔ اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی کو موثر طریقے سے مانیٹر نہیں کیا جاتا۔ تعلیمی بجٹ ناکافی ہے اور وہ بھی زیادہ تر عملے کی تنخواہوں میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اساتذہ کو تربیت کی ضرورت ہے اور تمام بچوں تک تعلیم کو قابل رسائی بنانے کے لیے اساتذہ کی تعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

حکومت نے بیان کی گئی ان تفصیلات کی طرف توجہ نہ دیکر عجیب و غریب نتائج پیدا کردیئے ہیں ۔ یہاں پورے صوبے کے تعلیمی نظام کو چلانے کے لیے  40,382 اسکول ہیں ۔ لیکن ان میں سے صرف  89 فیصدپرائمری ادارے کے ۔جی ( کنڈرگارٹن) سے  جماعت پنجم تک بچوں کو داخلہ دیتے ہیں ۔وہ طلباء جو  درجہ پنجم مکمل کرلیتے ہیں ۔ان کے لیے تعلیم کا مزید حصول غیر یقینی ہوتا ہے کیونکہ سندھ میں  صرف چند ہی ثانوی ادارے ہیں ۔ان کی تعداد اتنی ناکافی ہے کہ وہ  جماعت پنجم کے ان تمام طلباء کو داخلہ نہیں  دے سکتے  اسی لیے وہ درمیان میں ہی تعلیم ادھوری چھوڑ جاتے ہیں ۔

سب سے بری بات یہ ہے کہ تقریباً دو تہائی پرائمری اسکولوں میں  صرف ایک یا دواساتذہ ہیں ۔ استاد موجود ہونے کے باوجود تعلیم نہیں دی جاسکتی ۔ پھر ایسے ہزاروں بے پناہ اسکول اور اساتذہ ہیں جن کے پاس اسکول کی کوئی عمارت نہیں ہے۔یہ معلومات ہمیں  سندھ اسکول کی مردم شماری23-2022 سے ملتی ہیں ۔میں نے پچھلے  کئی سالوں میں ایسے بے شمار اسکولوں کا دورہ کیا ہے۔ کئی دہائیوں سے ڈان اخبار یہ مضحکہ خیز خبریں لکھ رہا ہے۔ حکومت کے اپنے مشیران خواہ وہ غیرمعمولی اور معروف شخصیت  انیتا غلام علی ہوں یا قیصر بنگالی  ، انہوں نے بہت کوشش کی کہ صاحبِ اقتدار کو کچھ عقل دی جائے ۔

ASER کی کی اس تقریبِ رونمائی کے آغاز میں ایک تجویز پیش کی گئی تھی کہ نظام کومقامی سطح پر خود مختاری دینے کے لیے ضلعی بنیاد پر تعلیمی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ یہ سب باتیں کاغذ پر اچھی لگتی ہیں لیکن احتساب کے بغیر یہ مزید بدعنوانی کا باعث بنے گا۔ پہلے ہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اپنے دائرہ اختیار میں بے پناہ اختیارات استعمال کرتا ہے۔

ان  افسران میں سے ایک کے بارے میں معلوم ہوا ہےکہ وہ اپنا ذاتی اسکول چلارہے ہیں جہاں  ذریعہ تعلیم انگریزی زبان ہے ۔ کچھ افسران کےاپنے  ٹیوشن سنیٹر بھی چل رہے ہیں۔ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟ کیا نئی بننے والی ضلعی اتھارٹی بدعنوانی کو روک سکے گی جو تعلیمی شعبے میں پھیلی ہوئی بدحالی کی اصل وجہ ہے ؟

تقریبِ اجراء میں ایک اور بات دیکھنے میں آئی  کہ سندھ میں تعلیمی اصلاحات کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ بالکل درست !  اصل چیلنج  یہی ہے اس حقیقت کے پیش نظر کہ استحصالی زمینداروں نے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں اسکول کھولنے کی مخالفت کی ہے۔ انہیں خوف ہے کہ تعلیم  حاصل کرنے کے بعد لوگ  اپنے حقوق سے آگاہ ہوجائیں گے  اور پھر ان پر قابو رکھنا  مشکل ہو جائے گا۔ حکومت  اس مخالفت کی وجہ سے اسکول کھولنے میں ناکام رہی ہے اوراسی بات نے  نجی اسکولوں کے قیام کو تقویت دی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم  اب بڑے پیمانے پر ایک کاروبار بن چکی ہے ۔

کیا کوئی  اس بات پر پُرامید ہے کہ ASER 2023کی رپورٹ کے معاملات ایک اہم موڑ پر ہیں ؟ہمیں انتظار کرنا پڑے گا اور دیکھنا پڑے گا۔ لیکن ہم ASERٹیم اور اس کی محرک بیلا  رضا جمیل کے شکرگزار ہیں   کہ وہ  قوم کا ضمیر جگانے کے لیے خدمت کرتی رہتی ہیں اور سال ہا سال یہ رپورٹ تیار کرتی ہیں ۔ایسے نازک موڑ پر استحصال کرنےوالے افراد اپنا کاروبار تعلیم کے نام پرخوب  چمکارہے ہیں ۔

ماخذ:          روزنامہ ڈان

5اپریل 2024 کوشائع ہوا۔