Category Archives: General

اتنی عجلت کیوں ؟

تحریر:     زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ:    سیما لیاقت

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ہر کام میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔جب ہم کچھ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تواس کی حکمتِ عملی پر غوربھی نہیں کرتے  اور چاہتے ہیں کہ وہ کام فوراً ہوجائے۔جلد بازی کا یہ رحجان  بچوں کی تعلیم کے معاملے میں بچوں کے ساتھ ساتھ معاشرے پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ بہر حال ہر کام کرنے کا ایک دورانیہ مقرر ہوتا ہے۔ آپ اپنی مرضی سے  اسے گَھٹانہیں کرسکتے۔ مجھے یاد ہے معروف سائنس  دان  ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی ہمیں بتایا کرتے تھے کہ انہیں اپنے تجربات کے دوران  ٹیسٹ ٹیوب میں مختلف عناصر کو ملانے کے بعد کئی دن انتظار کرنا ہوتا تھا تاکہ فطرت اپنا کام مکمل کرلے۔
Continue reading اتنی عجلت کیوں ؟

Drugs in schools

By Zubeida Mustafa,

OUR schoolchildren are at risk. It is not the system of education that makes them vulnerable to social evils such as drug addiction (substance use disorder, or SUD in medical parlance): schools also fail to provide students the support they need in their adolescent years. When there is talk of illicit drugs, it is generally in the context of their seizure by the authorities.

Continue reading Drugs in schools

اسکول میں منشیات

تحریر:      زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ :  سیما لیاقت

ہمارے اسکول کے بچوں کی صحت خطرے میں ہے۔  نظام ِتعلیم یہ نہیں  جو بچوں کو سماجی برائیوں جیسے کہ منشیات  (Substance Use Disorder،ڈاکٹر جسے SUD کہتے ہیں)  کی لت میں مبتلا کرتاہے۔اسکول بھی طلبا ءکو اخلاقی  مدد فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں جس کی انہیں نوعمری میں ضرورت ہوتی ہے۔ جب غیر قانونی منشیات کاذکر آتا ہے   تووہ عام طور پراس تناظر میں ہوتا ہے  کہ حکومت کے متعلقہ اداروں نے چھاپہ مار کرمنشیات  برآمد کرلی۔

Continue reading اسکول میں منشیات

ضائع شدہ صلاحیت

انگریزی آرٹیکل:   زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ :           سیما لیاقت

ایک زمانہ وہ  تھا جب امیدوار جوڑوں کی شادیاں اُن کے اہلِ خانہ طے کرتے تھے جس میں  “چائے کی ٹرالی” (ریحانہ عالم کی کتاب کے عنوان سے مستعار) کا کردار بہت اہم ہوتا تھا۔ جو لوگ شادی کے بندھن میں بندھنے والے  ہوتےتھے ۔ان کاایک دوسرے کے لیے اجنبی ہونا      ایک عام بات تھی۔ان  کی شادی پر ان کی  رائے   ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔درحقیقت یہ ثقافتی رواج اب بھی بہت سے گھرانوں میں برقرار ہے۔

Continue reading ضائع شدہ صلاحیت