کالم: زبیدہ مصطفیٰ
ترجمہ: سیما لیاقت
حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیوایک چھوٹے لڑکے کی کہانی ہے۔جس کے استاد نے اس کے چہرے پرنہ صرف کالک لگائی بلکہ دوسرے بچوں سے بھی اسے شرمندہ کرنے کے لیے کہا گیا ۔بچہ کی کیا غلطی تھی ؟اس کا یہی قصور تھا کہ ایک انگلش میڈیم اسکول میں اس نے اردو میں بات کی ۔یہ بات چونکادینے کے لیے کافی تھی ۔میں نے بلاشبہ وہ درد محسوس کیا جو اس بچے نے اپنی تذلیل پر محسوس کیا ہوگا۔ اس حرکت کی حیثیت ایک سنگین گناہ سے کم نہیں ۔وہ گناہ جو اس بچے کے خلاف، ہماری قومی زبان کے خلاف اور ان تمام بچوں کے خلاف کیا گیا تھا جنہیں اس نفرت انگیز تماشہ میں شامل کیا گیا۔