آفت کے وقت کا سیر سپاٹا

انگریزی آرٹیکل  :   زبیدہ مصطفیٰ

ترجمہ:                سیما لیاقت

ایک ہنگامی صورت حال میں انسانی فطرت کے اچھے اور برے دونوں ہی مزاج دیکھنے میں آتے ہیں۔بدقسمتی سے بدھ اور جمعرات کے دن ساحلِ سمندر پر کچھ ایسے چونکادینے والے مناظر سامنے آئے جنہوں نے  اہلِ کراچی کے کچھ اچھے مزاج کی عکاسی نہیں کی۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلِ سمندر کا رخ کیا۔جہا ں قدرت اپنے غضب کے ساتھ جلوہ  گرہونے کے لیے تیار تھی ۔یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حکام بار بار طوفان بائیپر جوئے  کے خطرہ سے بچائو کی تنبیہہ کررہے تھے ۔  ہوسکتاہے کہ کراچی براہ راست طوفان کی پٹی پر نہ رہاہواسی لیے عوام کایہ شوق ادھورا ہی رہا۔ان حفاظتی احکامات پر عمل نہ کرنے کے امکان کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذہوئی اور موقع پر ہی پولیس تعینات کردی گئی۔مگر پھر بھی ایڈونچر کے شوقین کو کوئی  نہیں روک سکا۔

لوگوں کارویہ بھی حکام کی توقع ،خدشات کے عین مطابق تھا۔خطرہ میں کودنے کے اس کھیل کو کیسے بیان کیا جائے؟وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اسے معقول لفظ دیتے ہوئے آفت کی تفریح قرار دیا۔ساتھ ہی لوگوں سے اپیل بھی کی کہ وہ اپنے آپ کو خطرہ سے دور رکھیں۔یہ تمام تر واضح انتباہ جاری ہونے کے باوجود اس لاپرواہی کو میں سراسر حماقت اور خودغرضی کے طور پر ہی بیان کروں گی۔

یہ بات میرے لیے حیران کن ہے کہ ہمارے لوگوں کے رویے اتنے عجیب وغریب کیوں ہوتے ہیں ۔ابھی تو ہم پچھلے سال کی سیلاب کی تباہ کاریوں  سے ہی نہیں نکل پائے ہیں۔جس نے سندھ کو تباہ کردیا تھا۔اس سے زیادہ خراب بات یہ کہ یہ صوبہ ابھی بھی نہیں سنبھلنے پایا ہے۔اب بھی تباہ حال ہے۔ ماسوائے چندعلاقوں کے جہاں لوگوں نے بغیر کسی سرکاری مدد کے اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کرلیا ہے۔اوروہاں زندگی معمول پر آناشرع ہوگئی ہے۔ مگر سندھ کو 2022سے پہلے کی صورتِ حال میں واپس آنے کے لیے ایک طویل جدوجہد کرنی ہے۔چندگائوں جواس وقت تباہ ہوگئے تھے وہ آج تک غیرآباد ہیں کیونکہ ان کے مکین واپس نہیں لوٹے۔بہت سے اسکولوں کی عمارات تباہ ہوئی ان کی جگہ ابھی تک دوسرے اسکول نہیں بن سکے ہیں۔مجھے علم نہیں کہ حکومت نے اسکولوں کاسروے کیا ہے ،آیاان اسکوں کے اعدادوشمار ہیں جو اب ختم ہوگئے ہیں ،اب یہ طلباء کہاں ہیں اور اساتذہ کدھر ہیں ۔  اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔

ہجوم کو سمندری حدود پر پہنچنے سےکوئی چیز نہیں روک سکتی تھی۔

ہمیں قطعی علم نہیں کہ   ہماری گزر بسر کے لیے کیا سامان باقی ہے۔سائیکلون گزرجانے کے بعد تعمیرِ نو ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔طوفان کے ٹکرانے سے قبل ہی ان خوفناک لہروں نے یہ ثابت کرناشروع کردیا تھا کہ انسان اس قہر کے سامنے کس قدر بے بس ہے۔خاص طور پر ایسے وقت میں جب غافل حکومتی ادارے بھی اپنی ذمہ داریاں اداکرنے میں ناکام رہےہیں۔ مگر دوسری طرف  یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت 77،000لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنےمیں کامیاب رہی ہے۔انہی میں سے  طوفان کی زد میں آنے والاکیٹی بندر کاایک مچھیراسلیم ڈبلو بھی ہے ۔اس نے بدستور ان  مینگروز کو بچانے کا بیڑہ اٹھایاجنہیں حکومت نے مستقل نظرانداز کیا ہوا ہے۔کیونکہ ڈبلواچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی روٹی روزی کاانحصار انہی مینگروز پر ہے جہاں مچھلیاں انڈے دیتی ہیں۔ان کی افزائش سے ہی اس کا روزگار جڑا ہواہے ۔جب وہ اپنے گھر کو لوٹے گا تو وہ مینگروز جوا س نے لگائے تھے کیااب بھی وہاں موجود ہونگے۔یہ بات اسے پریشان کیے دیتی ہے۔

کچھ مچھیرے  ایسے ہیں جو اپنی کشتیوں کے لیے فکرمندہیں۔ بحیرہ عرب میں خشکی پر ہونے کی وجہ سے انہیں یہ بھی یقین نہیں کہ ان کی کشتیاں سلامت بچ پائیں گی یا نہیں ۔کیونکہ ان کی کشتیاں ان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں جس سے ان کے خاندان کی بقاء ہے۔ان کا خیال ہے کہ ساحل اور گھاٹ کی عدم موجودگی میں ان کے جہاز وں کو تندوتیزہوائوں اور لہروں نے دوبارہ استعمال کے بھی قابل نہ چھوڑا ہوگا۔ یہ  تمام بیانیہ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ہے کہ سمندر پر موجود لوگوں کااپنی جان کو خطرہ میں ڈالنا  سراسر ایک غلط احساس ہے۔ایک بار پھر میں اپنے اصلی سوال کی طرف واپس آتی ہوں کہ بھلا کیوں ؟ اس کے کئی جواب ذہن میں آتے ہیں ۔جمع ہونے والا لوگوں کا ہجوم اس خطرہ کو نہیں سمجھ پارہا تھا جو لہروں کے اندر چھپاہوا تھا اور وہ لہریں سمندر کے کناروں پرسر پٹک رہی تھیں۔اگر چہ کراچی پاکستان کا واحد بڑا شہر ہےجو بلاشبہ سمندر کے کنارے ہونے پر فخر محسوس کرسکتا ہے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ سمندر کی بابت شہریوں کو  سمجھ بہت کم ہے۔لوگ سمندرکے مزاج ،اس کے رویے  اور اتارچڑھائوکے وقت کے بارے میں بہت کم ہی علم رکھتے ہیں۔انہیں یہ بھی نہیں پتاکہ سمندر کس طرح ایک پرسکون ،پرامن دوست ہوسکتا ہے۔مگریہی سمندر دشمن بھی ہوسکتا ہے جو آپ کو اپنے ساتھ بہا کر ہمیشہ کے لیے دور لے جاسکتا ہے۔یہ بات ہم سب جانتے ہیں  کہ کراچی میں ہرسال صرف سمندر میں ڈوبنے سے کئی اموات واقع ہوتی ہیں۔

لاپرواہی لوگوں کے مزاج کاحصہ بن گئی ہے کیونکہ ایک عام آدمی کے پاس ایسا کوئی قابلِ ذکرسرمایہ نہیں جسے بچایاجاسکے۔

سب سے اہم بات یہ کہ حکومت،میڈیا اور رائے دہندگان اپنا اعتماد کھوچکے ہیں ۔شاید اسی لیے شہری طوفان کی آمد کو غیر سنجیدہ سمجھتے ہوئےخودطوفان دیکھنے نکل پڑے۔فطرت کے یہ عناصر مددگارنہیں رہے۔اب طوفان ہی کو لے لیجئے۔طوفان کی آمد کے بارے میں خبریں مستقل زوروں پر تھیں لیکن  شہر کس حد تک خطرہ کی زد میں ہے یہ پیشن گوئی مستقل بدلتی رہی۔یہی حال زندگی کے تمام شعبوں کا ہے۔بہت کم لوگ کسی بھی اعلان پر یقین کرتے  ہیں یہاں تک کہ کراچی میں میئر کاانتخاب بھی بذاتِ خود ایک  ہنگامہ خیز مرحلہ تھا۔جس دن طوفان نے زمین پر سرٹکرانا تھا اسی دن  شہر کی سیاست میں ایک روایتی اورہمیشہ کی طر ح غیر یقینی صورتِ حال سامنے آئی ۔

عوام کی طرف سے اس طرح کی عدم توجہی ، لاپرواہی اور حکومت پراعتبار کا فقدان معاشرہ کے لیے ایک المیہ ہے۔کیا اب اس ملک میں ہمارااعتماد بحال ہوسکے گا؟

16 جون 2023