تحریر: زبیدہ مصطفیٰ
اردو ترجمہ : سیما لیاقت
ڈاکٹر طارق رحمان اپنی کتاب Pakistan’s Wars: An Alternative History میں امن کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔جوایک اعلیٰ تحقیقی،جامع اور حوالہ جاتی کتاب ہے ۔ مصنف کے الفاظ بہت پُر تاثیر ہیں کیونکہ اپنی کتاب میں انہوں نے امن کے بارے میں لکھنے سے پہلے جنگ کی ہولناکیوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے ۔جن کاپاکستان پر بار ہااثر پڑا ہے ۔لیکن ہم کہہ نہیں سکتے کہ وہ طاقتیں جنہوں نے کئی بارہمیں تنازعات کی طرف دھکیلا ہے ۔کیا وہ ان کے اس پیغام پر دھیان دیں گی ؟جو بھی ہو،مگر حقیقت یہی ہے کہ ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہم میں سے جو اہلِ قلم ہیں ۔ہمارا یہ اخلاقی فرض ہے کہ ڈاکٹر طارق رحمٰن کے پیغام کو عام کریں ۔
ڈاکٹر رحمان نادرلینڈ کے تاریخ داں رٹگر بریگمین کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ “انسان فطری طور پرمعاون اور مہربان ہے جیسا کہ صدیوں قبل ہمارے اجداد تھے۔ تاہم اس وصف کے باوجود ہمارے رہنما (بادشاہ، جرنیل اور سیاست دان) شکوک و شبہات کو بنیاد بنا کر لوگوں کو جنگ کرنے پر مائل کرتے ہیں۔”
ڈاکٹر رحمان نے عالمی تاریخ اور خود ہماری تاریخ سے کئی مثالیں دی ہیں کہ مشرقی پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں دونوں اطراف کے کچھ فوجی اہلکاراپنی ذاتی حیثیت میں “دشمن” پر مہربان تھے ۔اسی لیے وہ”نفرت اور انتقام” سے بالاتر ہو گئے۔ ان کا خیال ہے کہ جنگ میں بھی اکثر سپاہی اپنے دشمن پر گولی چلانے سے ہچکچاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یونیفارم میں چند سپاہی ایک آدھ موقع پررحم دلی دکھاکر جنگ کو ختم کرسکتے ہیں۔اگر چہ وہ اس بات کااعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کا یہ خیال بہت ہی بچکانہ اور رومانوی ہے ۔انہیں یہ بھی احساس ہے کہ ریاست “اتنی زبردست سرمایہ کاری اورخوب پروپیگنڈہ کرتی ہے توپھر یہ کیسے ممکن ہوکہ وہ امن کے لیے اپنی پالیسی کا رخ تبدیل کردیں “۔
پھر بھی وہ امید رکھتے ہیں کہ اس کتاب کو پڑھنے والے پالیسی سازوں سمیت کچھ سمجھ بوجھ رکھنے والے قارئین کو اس بات کا احساس ہو جائے گا کہ جنگوں کو ہوا دینے والے فیصلے غیر معمولی طور پر خطرناک رہے ہیں ۔ وہ اس بات کابھی اظہار کرتے ہیں کہ پالیسی بنانے والے ملک کے وجود کو خطرے میں ڈالنے والے مسائل کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں تو ان کے کتاب لکھنے کا مقصد پورا ہوجائے گا۔
ڈاکٹر رحمان نے بہت عمدہ بات کہی ہے۔قارئین کو اس موقع پر یونیسکو کے چارٹر کی تمہید کے بارے میں یاد دلانا مناسب ہو گا “جنگیں انسان کے ذہن میں شروع ہوتی ہیں۔ لہٰذا فردکی ذہن سازی میں فروغِ امن کی تعمیر ہونی چاہئے۔” پاکستان وہ کام نہیں کر رہا جو یونیسکو ہمیں کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ ملک کی سیکڑوں جامعات میں سے صرف چند ایک ہی پیس اسٹڈیز پروگرام پڑھاتی ہیں ۔ جس میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، نسٹ اور آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد شامل ہیں ۔ کچھ بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں میں تنازعات کے حل پرکورسز بھی ہوتے ہیں ۔
تاہم ان جامعات کے علاوہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز نے امن اور تنازعات کے حل پرعلم کو فروغ دینے میں ایک قابل ذکرکردار اداکیا ہے جس پر اس کی نیک نامی میں اضافہ ہواہے کیونکہ یہ ادارہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مکالمہ امن کے مقصد کو حاصل کرنے کااہم ذریعہ ہے ۔ یہ مختلف خیالات رکھنے والے رہنماؤں کوتبادلہ ءِ خیال کی دعوت دیتا ہے اور اسےوسیع پیمانے پر پھیلاتا ہے۔
وہ نقصانات جو پہلے ہی ہو چکے ہیں ان کے سدباب کے لیے اپنی کوششوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہماری قومی اقدار طاقت اور تشدد کی مدح سرائی کرتی ہیں کیونکہ ہماری ذہنیت رواداری یامفاہمت کو قبول کرنے سے انکاری ہوتی ہے ۔ بندوق کا کلچر عروج پر ہے۔ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے شاہین کو بہت زیادہ تکریم دی ہے کیونکہ یہ ایک شکاری پرندہ ہے جو حملہ کر کے اپنے جارحانہ جذبے کو برقرار رکھتا ہے۔جیسا کہ شاعر نے بیان کیا ہے۔
؎ جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
ہمارے اسکول کی نصابی کتب ہمارے جنگی ہیروز کی تعریف کرتی ہیں۔ امن کا پرچار کرنے والوں کا شاذونادرہی کبھی کہیں ذکرہو۔
اس سوچ کو ختم کرنا ضروری ہے کہ جنگ ہی امن قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔اسی لیے ملٹری ضروری ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ دفتر خارجہ کو ایک ایسی خارجہ پالیسی بنانے کی آزادی دی جائے جس سے تنازعات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
یقیناً ہمارے پاس کچھ ایسے سفیر رہے ہیں جوامن پسندتھے اورجن تنازعات سے ہم دوچار تھے انہوں نے اس کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ اگر وہ ناکام ہوئے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ ہمارے جنگجویانہ عزائم رکھنے والوں نے ان کی کوششوں کو دبادیا ۔
ہتھیاروں کوسراہنے والی یادگاریں چاہے وہ تلوارکی صورت ہوں یا آبدوز کی یا پھر چاغی میں جوہری تجربات کی نشاندہی کرتی ہوں ۔ایسی تمام یادگاروں کو بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ وہ تو شکر ہے کہ کچھ معاملات میں انہیں عقل آئی اور ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک یادگارکو ہٹا دیا گیا ہے۔اسی طرح حکومت نے 1998 کے جوہری تجربات کو ہر سال یوم تکبیر (28 مئی) کے نام سے منانے کا فیصلہ کیا تھالیکن وہ اپنے فیصلے پر برقرار نہ رہ سکی البتہ کچھ شدت پسند مذہبی جماعتوں کو یہ دن منانے کی اجازت دی گئی ۔ جسے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔
طاقت کے کرتا دھرتاؤں کو سمجھنا چاہیے کہ جنگ کے طور طریقے بدل چکے ہیں ۔کیونکہ آج ہر جنگ میں غیر ریاستی عناصر ملوث ہیں۔ یہ محرک جنگ کے بین الاقوامی قوانین کی بھی پاسداری نہیں کرتے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ امن کی روح کو فروغ دیا جائے تاکہ جنگ کے ماحول کو بے اثر کیا جاسکےجو آج سب میں سرایت کرچکا ہے۔