جدائ

تحریر: زبیدہ مصطفیٰ

اردو ترجمہ : سیما لیاقت

کل 16 دسمبر ہے۔ موجودہ پاکستان کی اکثریت آبادی ملک کا مشرقی بازو ٹوٹنے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ بہت سے لوگ اس تاریخی اہمیت سے واقف نہیں ہیں۔  جب اس دن کے حوالے سے ان سے کوئی بات ہی نہیں ہوتی ہے تو بھلا وہ کیسے جانیں گے؟

کالجوں میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم کی نصابی کتب میں اس بات کا سرسری سابیان ہے کہ  1970 کے انتخابات کے بعد  پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی لیگ کے رہنماؤں کے درمیان سیاسی مذاکرات کس طرح تعطل کا شکار ہوئے۔ جس کے بعدملک دوٹکڑے ہوگیا ۔اورپھر   جنرل یحییٰ خان  کے بیان کے مطابق   بھارت کی ’’ننگی جارحیت‘‘ اور ’’سامراجی عزائم‘‘  بھی ملک ٹوٹنے کا سبب بنے۔ بس کہانی ختم ہوئی!

بنگلہ دیش کےوجود میں آنے پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے  (اگرچہ یہ نصابی کتب میں موجودنہیں) میں ان سب باتوں کو یہاں نہیں دہراؤنگی۔ تفصیلات پر اختلافِ رائے ہو سکتا ہے لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ شروع سے ہی مغربی پاکستان میں  فوجی اور سول اسٹیبلشمنٹ  کے علاوہ پالیسی ساز بھی مشرقی پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر طارق رحمان کی  کتاب Pakistan’s War(جو کہ ایک بہترین  کتاب ہے )میں بنگالی ماہرین اقتصادیات نے اس صورت حال کو “اندرونی نوآبادکاری” اور “مشرق سے مغرب کی طرف سرمائے کا بہاؤ” قرار دیا۔ انہوں نے مثالیں دی ہیں  کہ کس طرح مشرقی پاکستان میں تعینات مغربی پاکستانی اہلکاروں نے مقامی لوگوں کی تذلیل کی۔ حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ اس  جنگی چال  جیسےسانحہ کا احاطہ کرتی ہے۔

کئی سالوں تک میرے لیے  یہ بات پریشان کُن رہی کہ آخرلوگوں کا آپس میں میل ملاپ کیوں نہ ہوا۔ بنگالی قوم نسلی، ثقافتی اور لسانی طور پر یکساں تھی ۔غیربنگالیوں کی  تعداد نسبتاً کم تھی۔ 1947- 1950 کےابتدائی سالوں میں ہجرت کرنے والوں کو  تین گروہ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

سب سے پہلے وہ مسلمان جو سرکاری ملازمین تھے۔جب  برطانیہ کی حکومت نے 1947میں انہیں ملک کے انتخاب کا موقع دیا تو انہوں نے  پاکستان کاہی انتخاب کیا۔ دوسرے  مشرقی یوپی اور بہار کی وہ عوام تھی جنہوں نےپاکستان جانے کا فیصلہ کیا وہ مشرقی دَھر میں چلے گئے کیونکہ یہ ان کے آبائی گھروں کے قریب تھا۔ تیسرے گروہ میں  مغربی بنگال کی وہ مسلمان اکثریت ہے جو کلکتہ میں فسادات کے بعد اپنی مرضی کے خلاف  ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

پہلے گروہ کے ساتھ مقامی آبادی نے وہی رویہ برتاجو ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں مغربی پاکستان سے آنے والے ان کے ساتھیوں کا تھا۔ جہاں تک دیگرغیر بنگالیوں کا تعلق ہے۔انہیں اپنی زبان اور ثقافت پر احساسِ برتری تھا۔ اس احساس نے انہیں بنگلہ زبان سیکھنے اور مقامی آبادی کے ساتھ گھل مل جانے سے روکا۔

یہ لوگ بااختیار عہدوں پرفائزتھے  انہوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ بہت حقارت کا مظاہرہ کیا ۔ہوسکتاہے کہ وہ اتنا تعصب نہ برتتے ہو ں لیکن میزبانوں کے ساتھ ان کا رویہ مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ مشرقی بازو سے تعلق رکھنے والا ایک مہمان  1970 میں چٹاگانگ میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ٹھہراہواتھا ۔ان دنوں کشیدگی عام تھی اور ان کے غرورکی کوئی حد نہ تھی۔

میرے مشاہدات اور غیر بنگالیوں کے انٹرویوز اس نظریے کی تصدیق کرتے ہیں۔ مغربی پاکستان کے زیر ِتسلط انتظامیہ نے اس  غیرمنصفانہ رویے  کی حوصلہ افزائی کی۔ اردو بولنے والوں کے لیے اردو میڈیم اسکول کھولے گئے مگر وہاں بنگالی زبان  نہیں پڑھائی جاتی تھی۔

بنگالی زبان نہ جاننے والوں کو بنگالی سکھانے کے لیے کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں  کہ زبان کا معاشرے اور لوگوں کے تعلقات پر بہت گہرااثر پڑتا ہے۔ 1948 میں جناح صاحب نے ڈھاکہ میں اردو زبان کو قومی زبان قراردیا تھا ۔اس بیان کے نتائج ہرگزمعمولی نہ تھے ۔یہاں تک کہ 1956 کے آئین میں اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی  قومی زبان قرار دینے کا فیصلہ بھی زخموں کا مداواثابت نہ ہوا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی بنگالی بھی  آپس کے سماجی تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہے۔ ان میں سے زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور ریڈکلف لائن کے مشرقی جانب  اپنے ‘ملکی عزیزواقارب’ کو حقیر سمجھتے تھے۔ وہ بات چیت بھی اردو یاانگریزی زبان میں ہی کرتے تھے۔

مشرقی پاکستان میں ایسے بہاریوں کی  تعداد بہت کم تھی جن کے خاندانوں نے انہیں اپنے بنگالی پڑسیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی اجازت دی۔ وہ روانی سے بنگالی بولتے تھے اور ان کے دوست بھی بنگالی تھے۔ لیکن 1970 کے نسلی منافرت کے ماحول  نے  ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ان چند وفاداروں کاانجام بھی  اپنے ہم وطنوں جیسا ہوا۔

امریکہ میں مقیم ایک ڈاکٹر جن کا بچپن مشرقی پاکستان میں گزارا،بتاتے ہیں کہ جب حساب کی گھڑی آئی تو وہ بھی  اپنے آپ کو بہاریوں کی طرح غیر محفوظ  تصور کرنے لگے ۔یہ ان کے بنگالی دوست ہی تھے جنہوں  نے انہیں انتباہ کیا کہ ان کی جان خطرہ میں ہےاورانہیں کسی طرح بنگلہ دیش سے نکال کر نیپال پہنچایا، جہاں سے وہ کراچی آئے۔

علامہ نصیرترابی کی نظم ہمسفرمشرقی پاکستان سے ہمارے 1971سے پہلے کے تعلقات کی بہت خوبصورت ترجمانی کرتی ہے۔جس میں نہ صرف دوستی بلکہ رفاقت کی کمی کا بھی اظہار ہے۔

 

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی